اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 263 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 263

اصحاب بدر جلد 5 263 بالکل آپ کے مطابق چلوں۔تو اس پر آپ نے ، آنحضرت صلی علی کرم نے فرمایا کہ تم دن بھر روزے رکھتے ہو اور رات بھر عبادت کرتے ہو۔انہوں نے عرض کی جی ہاں میں ایسا ہی کرتا ہوں۔آپ صلی للی کم نے فرمایا کہ ایسا مت کرو۔تمہاری آنکھوں کا تم پر حق ہے۔تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے اور تمہارے اہل کا بھی تم پر حق ہے۔تمہارے بیوی بچوں کا تم پر حق ہے۔پس نماز پڑھو اور سو بھی۔سونا بھی ضروری ہے۔نفل پڑھو، راتوں کو جاگو لیکن سونا بھی ضروری ہے۔روزہ رکھو اور چھوڑو بھی۔اگر نفلی روزے رکھنے ہیں تو بیشک رکھو لیکن کچھ دن نافعے بھی ہونے چاہئیں۔یہ بات آنحضرت صلی للی یکم نے حضرت عثمان سے فرمائی تو کچھ عرصہ کے بعد ان کی بیوی ازواج مطہرات کے پاس دوبارہ آئیں تو انہوں نے خوشبو لگائی ہوئی تھی گویا کہ وہ دلہن ہوں۔انہوں نے کہا کیا بات ہے آج بڑی سبھی بنی ہو۔اس پر وہ کہنے لگیں کہ ہمیں بھی چیز حاصل ہو گئی ہے جو لوگوں کو میسر ہے یعنی اب خاوند توجہ دیتا ہے۔594 حضرت عائشہ سے اس بارہ میں روایت ہے۔آپؐ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی للی کلم نے عثمان بن مطعون کو بلایا اور فرمایا کیا تو میرے طریقے کو نا پسند کرتا ہے ؟ وہ بولے یا رسول اللہ ! نہیں میں آپ ہی کے طریقے کو تلاش کرتا ہوں۔تو آپ صلی الم نے فرمایا کہ میں سوتا بھی ہوں اور نماز بھی پڑھتا ہوں۔روزہ بھی رکھتا ہوں اور کبھی نہیں بھی رکھتا۔اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔اے عثمان ! تو اللہ سے ڈر تجھ پر تیری بیوی کا حق ہے۔تیرے مہمان کا حق ہے اور خود تیرے نفس کا بھی تجھ پر حق ہے۔پس کبھی کبھی روزہ بھی رکھو اور کبھی نہ رکھو۔نماز بھی پڑھو اور سویا بھی کرو۔595 حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے بخاری کے حوالے سے بیان فرمایا ہے کہ "سعد بن ابی وقاص روایت کرتے ہیں کہ عثمان بن مظعون نے آنحضرت صلی اللہ کم سے عورتوں سے بالکل ہی علیحدہ ہو جانے کی اجازت چاہی مگر آپ نے اس کی اجازت نہیں دی۔اور اگر آپ اجازت دے دیتے تو ہم تیار تھے کہ اپنے آپ کو گو یا بالکل خفی ہی کر لیتے۔" 59611 ان جذبات کو بالکل ختم کرنے کے لیے اپنی کوشش کرتے۔بخاری کی جو حدیث ہے اس کا ترجمہ بتادیتا ہوں۔وہ اس طرح ہے حضرت سعد بن ابی وقاص بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمان بن مظعونؓ نے تقبل کی اجازت آنحضرت صلی اللی علم سے طلب کی تھی اور رسول اللہ صلی علیم نے اس سے انکار کر دیا تھا۔اور صحیح بخاری کی کتاب النکاح کی یہ حدیث ہے اور پھر یہاں بھی اسی طرح لکھا ہے، جو بیان ہو چکا ہے کہ اگر آپ اس کی اجازت دے دیتے تو ہم سب شاید تارک 597 الدنیا ہو جاتے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب پھر مزید لکھتے ہیں کہ " عثمان بن مظعون تھے جو بنو مجھیخ میں سے تھے۔نہایت صوفی مزاج آدمی تھے۔انہوں نے زمانہ جاہلیت میں ہی شراب ترک کر رکھی تھی۔" اسلام لانے سے پہلے بھی کبھی شراب نہیں پیتے تھے ، اور اسلام میں بھی تارک دنیا ہو نا چاہتے تھے مگر آنحضرت صلی علیہ کم نے یہ فرماتے ہوئے کہ اسلام میں رہبانیت جائز نہیں ہے اس کی اجازت نہیں دی۔5981