اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 191 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 191

اصحاب بدر جلد 5 191 کھڑی کرو تو یہ کہا کرو۔پھر تکبیر کے الفاظ دوہرائے کہ الله أكبر الله أكبرُ۔اَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ۔الله اكبر الله اكبر لا إلهَ إِلَّا اللهُ۔اس میں دو ہی الفاظ اذان سے زائد ہیں۔قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ ہے کہ نماز کھڑی ہو گئی ہے۔نماز کھڑی ہو گئی ہے۔اور پھر وہی اللہ سب سے بڑا ہے۔اللہ سب سے بڑا ہے۔پھر کہتے ہیں جب صبح ہوئی تو میں آپ صلی اللہ علم کی خدمت میں حاضر ہوا اور جو میں نے دیکھا تھا بیان کر دیا۔آپ صلی علیکم نے فرمایا کہ یقینا اللہ چاہے تو یہ سچی خواب ہے۔تم بلال کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ اور جو تم نے دیکھا تھا وہ بتاتے جاؤ۔وہ ان الفاظ کے ساتھ اذان دے دے چونکہ اس کی آواز تم سے زیادہ بلند ہے۔پس میں بلال کے ساتھ کھڑا ہو گیا میں ان کو بتاتا جاتا تھا اور وہ اس کے مطابق اذان دیتے تھے۔راوی کا بیان ہے کہ جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ اذان سنی تو وہ اپنے گھر میں تھے۔وہ اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے نکلے اور کہہ رہے تھے کہ اس کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ یار سول اللہ بھیجا ہے ! میں نے وہی دیکھا جو اس نے دیکھا ہے۔یہ سن کر آپ نے فرمایا کہ سب تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔422 ایک دوسری روایت میں اس جگہ یہ الفاظ ملتے ہیں کہ اس پر آنحضرت صلی الیکم نے فرمایا کہ اللہ ہی کے لیے سب تعریف ہے پس یہی بات پختہ ہے۔423 اذان کی ابتداء اس کی تفصیل میں سیرت خاتم النبیین میں، حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے مختلف تاریخوں سے لے کے بعض باتیں زائد بیان فرمائی ہیں۔وہ بیان کرتے ہیں کہ : ابھی تک نماز کے لیے اعلان یا اذان وغیرہ کا انتظام نہیں تھا تو صحابہ عموماً وقت کا اندازہ کر کے خود نماز کے لیے جمع ہو جاتے تھے۔لیکن یہ صورت کوئی قابل اطمینان نہیں تھی۔مسجد نبوی کے تیار ہو جانے پر یہ سوال زیادہ محسوس طور پر پیدا ہوا کہ کس طرح مسلمانوں کو وقت پر جمع کیا جائے۔کسی صحابی نے نصاری کی طرح ناقوس کی رائے دی۔کسی نے یہود کی مثال میں بوق کی تجویز پیش کی۔کسی نے کچھ کہا۔مگر حضرت عمرؓ نے مشورہ دیا کہ کسی آدمی کو مقرر کر دیا جائے کہ وہ نماز کے وقت یہ اعلان کر دیا کرے کہ نماز کا وقت ہو گیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ ہم نے اس رائے کو پسند فرمایا اذان سے پہلے حضرت عمر کی ایک یہ رائے تھی) حضرت بلال کو حکم دیا کہ وہ اس فرض کو ادا کیا کریں۔چنانچہ اس کے بعد جب نماز کا وقت آتا تھا بلال بلند آواز سے الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ کہہ کر پکارا کرتے تھے اور لوگ جمع ہو جاتے تھے۔بلکہ اگر نماز کے علاوہ بھی کسی غرض کے لیے مسلمانوں کو مسجد میں جمع کرنا ہوتا تو یہی آواز دی جاتی، یہی اعلان کیا جاتا۔اس کے کچھ عرصے کے بعد ، ( پھر آگے ان کا وہی قصہ ہے کہ) ایک صحابی حضرت عبد اللہ بن زید انصاری کو خواب میں موجود اذان کے الفاظ سکھائے گئے اور انہوں نے آنحضرت صلی ال ایم کی