اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 192 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 192

اصحاب بدر جلد 5 192 خدمت میں حاضر ہو کر اپنی اس خواب کا ذکر کیا اور عرض کیا کہ میں نے خواب میں ایک شخص کو اذان کے طور پر یہ الفاظ پکارتے سنا ہے۔آپ صلی علیہ ہم نے فرمایا یہ خواب خدا کی طرف سے ہے اور عبد اللہ کو حکم دیا کہ بلال کو یہ الفاظ سکھا دیں۔لکھتے ہیں کہ عجیب اتفاق یہ ہوا کہ جب بلال نے ان الفاظ میں پہلی دفعہ اذان دی تو حضرت عمرؓ اسے سن کر جلدی جلدی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! آج جن الفاظ میں بلال نے اذان دی ہے بعینہ یہی الفاظ میں نے بھی خواب میں دیکھے ہیں اور ایک روایت میں یہ ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ ﷺ نے اذان کے الفاظ سنے تو فرمایا کہ اسی کے مطابق وحی بھی ہو چکی ہے۔424 سارا مال صدقہ کر دیا بشیر بن محمد اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن زید جنہیں اذان رویا میں دکھائی گئی تھی انہوں نے اپنا وہ مال صدقہ کیا جس کے علاوہ کے پاس کچھ اور نہیں تھا۔سارا مال صدقہ کر دیا۔آپ اور آپ کا بیٹا اس کے ذریعہ زندگی بسر کر رہے تھے۔وہی ان کا ذریعہ معاش تھا۔پس جو بھی جائیداد تھی آپ نے اسے رسول اللہ صلی علیکم کے سپرد کر دیا۔جب انہوں نے یہ مال سپر د کر دیا تو اس پر ان کے والد رسول اللہ صلی علی ایم کے پاس آئے اور عرض کی کہ یارسول اللہ ! عبد اللہ بن زید نے اپنا مال صدقہ کیا ہے اور وہ اس کے ذریعہ زندگی بسر کر رہے تھے۔اس پر رسول اللہ صلی العلیم نے حضرت عبد اللہ بن زید کو بلا کر فرمایا کہ یقیناً اللہ نے تجھ سے تیر اصدقہ قبول کر لیا جو تو نے دیا۔جو اللہ کے لیے چھوڑ دیا وہ اللہ نے قبول کر لیا۔البتہ اس کو میراث کے طور پر اپنے والدین کو لوٹا دے۔اب یہ میراث کے طور پر والدین کو واپس کر دے۔تو بشیر کہتے ہیں کہ پھر ہم نے اس کو وراثت میں پایا یعنی آگے پھر ان کے بچوں نے اس 425 طرح اس میں سے حصہ لیا۔اپنے ناخن تبرک کے طور پر عطا فرمائے ایک موقع پر رسول اللہ صلی علیم نے حضرت عبد اللہ بن زید کو اپنے ناخن تبرک کے طور پر عطا فرمائے۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ حضرت عبد اللہ بن زید کے بیٹے محمد نے بیان کیا کہ ان کے والد بی صلی علیکم کے پاس حجتہ الوداع کے موقع پر منی کے میدان میں منحر یعنی قربان گاہ میں قربانی کے گوشت کے وقت حاضر تھے اور آپ کے ہمراہ انصار میں سے ایک اور شخص بھی تھا۔رسول الله صلى العلم نے قربانیاں تقسیم کیں تو حضرت عبد اللہ بن زید اور ان کے انصاری ساتھی کو کچھ نہ ملا۔پھر رسول اللہ صلی علیم نے ایک کپڑے میں اپنے بال اتروائے اور انہیں لوگوں میں تقسیم کر دیا۔پھر آپ نے اپنے ناخن کٹوائے اور وہ حضرت عبد اللہ بن زید اور ان کے انصاری ساتھی کو عطا کر دیے۔426