اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 156 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 156

اصحاب بدر جلد 5 156 جو آیت میں نے پڑھی ہے زید کی بات کی تصدیق فرمائی اور منافقین کو جھوٹا قرار دیا۔ادھر تو آنحضرت صلی علی کریم نے عبد اللہ بن اُبی وغیرہ کو بلا کر اس بات کی تصدیق شروع فرما دی اور اُدھر آپ صلی علیم نے حضرت عمرؓ سے ارشاد فرمایا کہ اسی وقت لوگوں کو کوچ کا حکم دو۔یہ وقت دوپہر کا تھا جبکہ آنحضرت ملی لیکن عموما دو پہر کو کوچ نہیں فرمایا کرتے تھے ،سفر نہیں شروع کیا کرتے تھے کیونکہ عرب کے موسم کے لحاظ سے یہ وقت سخت گرمی کا وقت ہوتا ہے اور اس میں سفر کرنا بڑا تکلیف دہ ہوتا ہے مگر آپ صلی علیہم نے اس وقت کے حالات کے مطابق یہی مناسب خیال فرمایا کہ ابھی یہاں سے روانہ ہو جایا جائے۔چنانچہ آپ کے حکم کے ماتحت فوراً اسلامی لشکر واپسی کے لیے تیار ہو گیا۔غالباً اسی موقعے پر اُسید بن حضیر انصاری جو قبیلہ اوس کے نہایت نامور رئیس تھے آنحضرت صلی علی کیم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یار سول اللہ ! آپ تو عموماً ایسے وقت میں سفر نہیں فرمایا کرتے آج کیا معاملہ ہے کہ اس وقت دو پہر کو سفر شروع کرنے لگے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ اُسید! کیا تم نے نہیں سنا کہ عبد اللہ بن ابی نے کیا الفاظ کہے ہیں؟ وہ کہتا ہے کہ ہم مدینہ چل لیں وہاں پہنچ کر عزت والا شخص ذلیل شخص کو باہر نکال دے گا۔اُسید نے بے ساختہ عرض کیا کہ ہاں یار سول اللہ اٹھیک ہے۔یہ بات تو ہے لیکن آپ چاہیں تو بے شک عبد اللہ کو مدینے سے باہر نکال سکتے ہیں کیونکہ واللہ اعزت والے آپ ہیں وہ نہیں اور وہی ذلیل ہے۔پھر اُسید بن حضیر نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! آپ جانتے ہیں کہ آپ کے تشریف لانے سے پہلے عبد اللہ بن ابی اپنی قوم میں بہت معزز تھا اور اس کی قوم اس کو اپنا بادشاہ بنانے کی تجویز میں تھی۔صلی املی کام کے تشریف لانے سے اس کی کوششیں جو خاک میں مل گئیں۔پس اس وجہ سے اس کے دل میں آپ کے متعلق حسد بیٹھ گیا ہے۔اس لیے آپ اس کی اس بکو اس کی کچھ پروانہ کریں اور اس سے در گزر فرمائیں۔میں ابھی اپنے باپ کا سر کاٹ کر آپ کے قدموں میں لاڈالتا ہوں تھوڑی دیر میں عبد اللہ بن ابی کالڑکا جس کا نام حباب تھا مگر آنحضرت صلی علی کلم نے اسے بدل کر عبد اللہ کر دیا تھا یعنی یہی حضرت عبد اللہ جن کا ذکر ہو رہا ہے۔وہ ایک نہایت مخلص صحابی تھے ، گھبر ائے ہوئے آنحضرت علی ای کم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے۔یارسول اللہ ! میں نے سنا ہے کہ آپ میرے باپ کی گستاخی اور فتنہ انگیزی کی وجہ سے اس کے قتل کا حکم دینا چاہتے ہیں۔اگر آپ کا یہی فیصلہ ہے تو آپ مجھے حکم فرمائیں میں ابھی اپنے باپ کا سر کاٹ کر آپ کے قدموں میں لا ڈالتا ہوں مگر آپ کسی اور کو ایسا ارشاد نہ فرمائیں کیونکہ میں ڈرتا ہوں کہ جاہلیت کی کوئی رگ کسی وقت میرے بدن میں جوش مارے اور میں اپنے باپ کے قاتل کو کوئی نقصان پہنچا بیٹھوں اور خدا کی رضا چاہتا ہوا بھی جہنم میں جاگروں۔چاہتا تو میں یہ ہوں کہ اللہ تعالیٰ کو راضی کروں لیکن ایک مسلمان کو قتل کر کے میں جہنم میں چلا جاؤں۔آپ نے انہیں تسلی دی اور فرمایا کہ ہمارا ہر گز یہ ارادہ نہیں ہے بلکہ ہم بہر حال تمہارے والد کے ساتھ نرمی اور احسان کا معاملہ کریں گے۔