اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 157 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 157

اصحاب بدر جلد 5 336 157 مگر عبد اللہ بن عبد اللہ بن ابی کو اپنے باپ کے خلاف اتنا جوش تھا کہ جب لشکرِ اسلامی مدینے کی طرف لوٹا تو عبد اللہ اپنے باپ کا راستہ روک کر کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے کہ خدا کی قسم ! میں تمہیں واپس نہیں جانے دوں گا جب تک تم اپنے منہ سے یہ اقرار نہ کرو کہ رسول ا ل ل ل لا ل ل ل ا ل عزیز ہیں اور تم ذلیل ہو اور عبد اللہ نے اس اصرار سے اپنے باپ پر زور ڈالا کہ آخر اس نے مجبور ہو کر یہ الفاظ کہہ دیے جس پر عبد اللہ نے اس کا راستہ چھوڑ دیا۔16 میری عمر کی قسم ! ہم اس سے اچھا برتاؤ کریں گے جب تک یہ ہمارے درمیان زندہ ہے ابن سعد نے ان الفاظ میں یہ واقعہ بیان کیا ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ ہم نے صحابہ کو کوچ کا حکم دیا تو عبد اللہ بن ابی کے بیٹے حضرت عبد اللہ نے اپنے والد کا راستہ روک لیا اور اونٹ سے نیچے اتر آئے اور اپنے والد سے کہنے لگے کہ جب تک تم یہ اقرار نہیں کرتے کہ تو ذلیل ترین اور محمد (صلی این عزیز ترین ہیں تب تک میں تجھے نہیں چھوڑوں گا۔جب رسول اللہ صلی علی کم پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا اسے چھوڑ دو۔رسول اللہ صلی علیم نے بھی دیکھ لیا۔فرمایا اسے چھوڑ دو۔آپ نے فرمایا کہ میری عمر کی قسم اہم اس سے ضرور اچھا برتاؤ کریں گے جب تک یہ ہمارے درمیان زندہ ہے۔یہ طبقات الکبریٰ میں درج ہے اور اس کے علاوہ یہ بھی ذکر ملتا ہے کہ حضرت عبد اللہ کے والد عبد اللہ بن ابی نے یہ کہا کہ لِيُخْرِجَنَ الْاَعَةُ مِنْهَا الْأَذَلَ یعنی عزت والا شخص یا گر وہ ذلیل شخص یا گروہ کو اپنے شہر سے باہر نکال دے گا تو حضرت عبد اللہ نے رسول اللہ صلی علی کریم سے عرض کیا کہ یار سول اللہ !وہی ذلیل ہے اور آپ ہی عزیز ہیں۔خود بیٹے نے اپنے باپ کے بارے میں کہا۔337 338 واقعہ افک اور اس تہمت کا بانی عبد اللہ بن ابی بن سلول پھر ایک ناپاک تہمت جو منافقین کی طرف سے لگائی گئی، واقعہ افک سے اس کا تعلق ہے جس کا بانی مبانی عبد اللہ بن اُبی بن سلول تھا۔غزوہ بنو مصطلق سے واپسی پر افک کا واقعہ پیش آیا جس میں حضرت عائشہ کی ذات پر گندے الزامات لگائے گئے تھے اور اس تہمت کا بانی عبد اللہ بن ابی بن سلول تھا۔واقعہ افک کے متعلق گذشتہ سال کے آخر میں ایک خطبے میں تفصیل بیان کر چکا ہوں۔339 لیکن اس حوالے سے بھی یہاں کچھ بیان کر دیتا ہوں۔حضرت عائشہ کی روایت بھی یہی ہے۔وہ پوری روایت تو نہیں اس کا کچھ حصہ بیان کروں گا۔آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی للہ یکم جب کسی سفر میں نکلنے کا ارادہ فرماتے تو آپ اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ ڈالتے۔پھر جس کا قرعہ نکلتا آپ اس کو اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔چنانچہ اس سفر میں ہمارے درمیان قرعہ ڈالا گیا تو میرا قرعہ نکلا۔میں آپ کے ساتھ گئی۔اس وقت حجاب کا حکم اتر چکا تھا۔پردے کا حکم آگیا تھا۔میں ہو دج میں بٹھائی جاتی اور ہو دج سمیت اتاری جاتی رہی۔ایک بند کرسی تھی،