اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 75 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 75

اصحاب بدر جلد 5 75 ایسے تھے کہ ان کے اوپر انصاری صحابہ میں سے کسی اور کو افضل شمار نہیں کیا جاسکتا اور وہ سب کے سب قبیلہ بنو عبد الاشھل میں سے تھے۔وہ تین یہ تھے۔حضرت سعد بن معاذ، حضرت اسید بن حضیر اور حضرت عباد بن بشر۔حضرت عباد بن بشر سے روایت ہے کہ آنحضور صلی ا یکم نے انصار کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اے انصار کے گروہ تم لوگ میرے شعار ہو۔( یعنی وہ کپڑا جو سب کپڑوں سے نیچے ہوتا ہے اور بدن سے ملا رہتا ہے ) اور باقی لوگ دینار ہیں۔(یعنی وہ چادر جو اوپر اوڑھی جاتی ہے ) آنحضرت صلی علیہم نے فرمایا کہ مجھے اطمینان ہے کہ تمہاری طرف سے مجھے کوئی تکلیف دہ بات نہیں پہنچے گی۔جنگ یمامہ میں شہادت حضرت عباد بن بشر جنگ یمامہ میں 45 سال کی عمر میں شہید ہوئے۔اللہ عباد پر رحم کرے حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی علیکم میرے گھر میں تہجد کی نماز پڑھ رہے تھے کہ اتنے میں آپ نے عباد بن بشر کی آواز سنی جو مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے۔آپ صلی الیم نے پوچھا عائشہ کیا یہ عباد کی آواز ہے ؟ میں نے کہا ہاں۔آپ صلی علی ایم نے فرمایا کہ اے اللہ عباد پر رحم کر۔روشنی کے دو چراغ اسی طرح حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی نیلم کے صحابہ میں سے دو شخص ایک تاریک رات میں نبی کریم صلی لیلی کیم کے پاس سے نکلے۔ان میں سے ایک حضرت عباد بن بشر تھے اور دوسرے میں سمجھتاہوں کہ حضرت اُسید بن حضیر تھے اور ان کے ساتھ دو چراغ جیسے تھے جو ان کے سامنے روشنی کر رہے تھے۔جب وہ دونوں جدا جدا ہوئے تو ان میں سے ہر ایک کے ساتھ ایک ایک چراغ ہو گیا۔(رات کو اندھیرے میں روشنی دکھانے کے لئے آخر وہ اپنے گھر والوں کے پاس پہنچ گئے۔184 صلح حدیبیہ میں شمولیت صلح حدیبیہ کے سفر میں بھی یہ شامل تھے۔اس سفر کی تفصیل میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی علی کی کچھ اوپر چودہ سو صحابیوں کی جمعیت کے ساتھ ذو قعدہ 6 ہجری کے شروع میں پیر کے دن بوقت صبح مدینہ سے روانہ ہوئے اور اس سفر میں آپ کی زوجہ محترمہ حضرت ام سلمہ آپ کے ہم رکاب تھیں۔اور مدینہ کا امیر تحمیلہ بن عبد اللہ کو اور امام الصلوۃ عبد اللہ بن ام مکتوم کو جو آنکھوں سے معذور تھے مقرر کیا گیا تھا۔جب آپ ذوالحلیفہ میں پہنچے جو مدینہ سے قریباً چھ میل کے فاصلے پر مکہ کے رستے پر واقع ہے تو آپ صلی الی یکم نے ٹھہرنے کا حکم دیا اور نماز ظہر کی ادائیگی کے بعد قربانی کے