اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 76 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 76

اصحاب بدر جلد 5 76 اونٹوں کو جو تعداد میں ستّر تھے نشان لگائے جانے کا ارشاد فرمایا اور صحابہ کو ہدایت فرمائی کہ وہ حاجیوں کا مخصوص لباس یعنی جو احرام کہلاتا ہے وہ پہن لیں اور آپ نے خود بھی احرام باندھ لیا اور پھر قریش کے حالات کا علم حاصل کرنے کے لئے کہ آیا وہ کسی شرارت کا ارادہ تو نہیں رکھتے ایک خبر رساں بُشر بن شفیان نامی کو جو قبیلہ خزاعہ سے تعلق رکھتا تھا جو مکہ کے قریب آباد تھے آگے بھجوا کر آہستہ آہستہ مکہ کی طرف روانہ ہوئے اور مزید احتیاط کے طور پر مسلمانوں کی بڑی جمعیت کے آگے آگے رہنے کے لئے عباد بن بشر کی کمان میں ہیں سواروں کا ایک دستہ بھی متعین فرمایا۔جب آپ چند روز کے سفر کے بعد عُسفان کے قریب پہنچے جو مکہ سے تقریباً دو منزل کے راستے پر واقع ہے تو آپ کے خبر رساں نے واپس آ کر آپ کی خدمت میں اطلاع دی کہ قریش مکہ بہت جوش میں ہیں اور آپ کو روکنے کا پختہ عزم کئے ہوئے ہیں حتی کہ ان میں سے بعض نے اپنے جوش اور وحشت کے اظہار کے لئے چیتوں کی کھالیں بہن رکھی ہیں اور جنگ کا پختہ عزم کر کے بہر صورت مسلمانوں کو روکنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔یہ بھی معلوم ہوا کہ قریش نے اپنے چند جانباز سواروں کا ایک دستہ خالد بن ولید کی کمان میں جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے آگے بھیجوا دیا ہے اور یہ کہ یہ دستہ اس وقت مسلمانوں کے قریب پہنچا ہوا ہے اور اس دستہ میں عکرمہ بن ابو جہل بھی شامل ہے۔یہ خبریں آپ کو دی گئیں۔آنحضرت صلی ا ہم نے یہ خبر سنی تو تصادم سے بچنے کی غرض سے صحابہ کو حکم دیا کہ مکہ کے معروف راستے کو چھوڑ کر دائیں جانب ہوتے ہوئے آگے بڑھیں۔چنانچہ مسلمان ایک دشوار گزار اور کٹھن راستے پر پڑ کر سمندر کی جانب سے ہوتے ہوئے آگے بڑھنا شروع ہوئے۔185 اور وہاں پہنچے۔آگے پھر صلح حدیبیہ کا سارا واقعہ ہے تو عباد بن بشر بھی ان لوگوں میں شامل تھے جن کو ایک دستہ کا سوار بنا کر معلومات لینے کے لئے بھیجا۔بہت قابل اعتبار قابلِ اعتماد صحابی تھے جن پہ آنحضرت صلی الی یم کو بہت زیادہ اعتماد تھا۔حضرت عباد بن بشر حدیبیہ کے موقع پر ہونے والی بیعت جس کو بیعت رضوان کہا جاتا ہے اس میں شامل ہونے والے صحابہ کرام میں سے ہیں۔تیروں کے زخم اور نماز میں محویت غزوہ ذات الرفاع کا ایک واقعہ ہے کہ آنحضور صلی علیم نے ایک رات ایک جگہ پر قیام فرمایا۔ا وقت تیز ہوا چل رہی تھی آپ صلی علیہ کی ایک گھائی پر فروکش ہوئے تھے۔آپ نے صحابہ سے پوچھا کہ کون ہے جو آج رات ہمارے لئے پہرہ دے گا۔اس پر حضرت عباد بن بشر اور حضرت عمار بن یا سر کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم آپ کا پہرہ دیں گے۔اس کے بعد وہ دونوں گھاٹی کی چوٹی پر بیٹھ گئے۔پھر حضرت عباد بن بشر نے حضرت عمار بن یاسر سے کہا کہ ابتدائی رات میں پہرہ دے لوں گا اور ان کو کہا کہ تم جا کر سو جاؤ۔اور آخر رات میں تم پہرہ دے دینا تا کہ میں سو جاؤں۔چنانچہ حضرت عمار بن یاسر تو سو گئے اور حضرت عباد بن بشر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔