اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 48
888 48 180 اصحاب بدر جلد 5 نام و نسب حضرت عاقل بن بکیر چار بھائی جنہوں نے اکٹھے اسلام قبول کیا، اکٹھے ہجرت کی اور چاروں بدر میں شامل حضرت عاقل کا تعلق قبیلہ بنو سعد بن لیث سے تھا۔134 حضرت عاقل فضا پہلا نام تمایل تھا لیکن جب انہوں نے اسلام قبول کیا تو رسول اللہ صلی نیلم نے ان کا نام عاقل رکھ دیا۔آپ کے والد کا نام تاریخ وسیرت کی زیادہ تر کتب میں بگیر آیا ہے تاہم چند کتابوں میں ابوبگیر بھی لکھا ہے۔آپ کے والد بیگیر زمانہ جاہلیت میں حضرت عمرؓ کے جد امجد نفیل بن عَبْدُ الْعُزَّى کے حلیف تھے۔اسی طرح بگیر اور ان کے سارے بیٹے بنو نُفیل کے حلیف تھے۔ابتدائی قبول اسلام حضرت عاقل، حضرت عامر، حضرت ایاس، اور حضرت خالد یہ چاروں بھائی بگیر کے بیٹے تھے۔انہوں نے اکٹھے دارِ ارقم میں اسلام قبول کیا اور یہ سب دارِ ارقم میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے تھے۔سارا خاندان مدینہ کی طرف ہجرت کرنے والا حضرت عاقل، حضرت خالد، حضرت عامر اور حضرت ایاس ہجرت کے لیے مکہ سے مدینہ کی طرف روانہ ہوئے تو انہوں نے اپنے تمام مردو زن کو اکٹھا کر کے ہجرت کی۔سب عورتیں بچے وغیرہ سب نے اکٹھے ہجرت کی۔یوں ان کے گھروں میں کوئی مکہ میں پیچھے باقی نہیں رہا، یہاں تک کہ ان کے دروازے بند کر دیے گئے۔ان سب لوگوں نے حضرت رفاعہ بن عَبدُ الْمُنْذِر کے ہاں مدینہ میں قیام کیا۔رسول اللہ صلی الم نے حضرت عاقل اور حضرت مُبشر بن عَبدُ الْمُنیر کے درمیان عقد مؤاخات قائم فرمائی، بھائی چارہ قائم فرمایا، بھائی بھائی بنایا۔آپ دونوں غزوہ بدر میں شہید ہوئے تھے۔ایک قول کے مطابق رسول اللہ صلی ا ولم نے حضرت عاقل اور حضرت مجدد بن زیاد کے درمیان عقد مؤاخات قائم فرمایا تھا۔حضرت عاقل غزوہ بدر کے روز 34 سال کی عمر میں شہید ہوئے تھے۔آپ کو مالک بن زُھیر جشمی نے شہید کیا تھا۔135 چار بھائی جو جنگ بدر میں شامل ہوئے ون ابن اسحاق کہتے ہیں کہ ہمیں حضرت ایاس اور ان کے بھائیوں حضرت عاقل، حضرت خالد اور