اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 49 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 49

اصحاب بدر جلد 5 49 حضرت عامر کے علاوہ کوئی بھی چار ایسے بھائی معلوم نہیں جو غزوہ بدر میں اکٹھے شریک ہوئے ہوں۔حضرت بلال کی شادی۔۔۔۔۔136 زید بن اسلم سے مروی ہے کہ ابو بگیر کے لڑکے آنحضرت صلی یکم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی یارسول اللہ ! ہماری بہن کا فلاں شخص کے ساتھ نکاح کر دیجیے۔آنحضرت صلی اللہ ہم نے فرمایا کہ بلال کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے ؟ یعنی یہ جو چاروں بھائی تھے ان میں سے کچھ بھائی یا چاروں ہی آنحضرت مصلی یی کم کی خدمت میں اپنی بہن کے رشتے کے لیے حاضر ہوئے۔آنحضرت صلی الی ایم نے حضرت بلال سے رشتہ کے متعلق ان سے پوچھا۔تسلی نہیں تھی تو چلے گئے۔وہ لوگ دوسری مرتبہ پھر آنحضرت صلی لیلی کیم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی یارسول اللہ صلی یہ کم ہماری بہن کا فلاں شخص کے ساتھ نکاح کر دیں۔آنحضرت صلی اللہ ہم نے پھر فرمایا کہ بلال کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے ؟ اس بات پر وہ پھر چلے گئے۔پھر وہ لوگ تیسری مرتبہ آنحضرت صلی علیم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ ہماری بہن کا فلاں شخص کے ساتھ نکاح کر دیجیے۔آنحضرت صلی علیہ ہم نے فرمایا کہ بلال کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے ؟ پھر مزید فرمایا کہ ایسے شخص کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جو اہل جنت میں سے ہے ؟ اس پر ان لوگوں نے حضرت بلال سے اپنی بہن کا نکاح کر دیا۔137 181 حضرت عامر بن امیہ ย حضرت عائشہ نے فرمایا: ” عامر کیا خوب شخص تھا۔الله سة " ایک صحابی حضرت عامر بن امیہ ہیں۔حضرت ہشام بن عامر کے والد تھے۔بدر میں شامل تھے اور احد میں شہید ہوئے۔قبیلہ بنو عدی بن نجار میں سے تھے۔138 حضرت ہشام بن عامر سے روایت ہے کہ آنحضور صلی للی نام سے احد کے شہداء کو دفنانے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ وسیع قبر کھو دو اور دو یا تین کو ایک قبر میں اتار دو۔فرمایا کہ جس کو قرآن زیادہ آتا ہو اس کو پہلے اتارو۔حضرت ہشام بن عامر بیان کرتے ہیں کہ میرے والد عامر بن امیہ کو دو آدمیوں سے پہلے قبر میں اتارا گیا۔139 حضرت عامر کے بیٹے ہشام بن عامر ایک مرتبہ حضرت عائشہ کے پاس گئے تو انہوں نے فرمایا کہ عامر کیا خوب شخص تھا۔لیکن آپ کی پھر نسل نہیں چلی۔140