اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 47 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 47

اصحاب بدر جلد 5 47 ضرار کو گرانے کا جو حکم فرمایا تھا اس کے آگے آیات میں یہ بھی بڑا واضح فرمایا تھا کہ مسجد وہی حقیقی ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر ہو لیکن ان غیر احمدی علماء نے اپنی دانست میں تقویٰ صرف اسی بات کو سمجھ لیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف مسجدوں میں کھڑے ہو کے ہر زہ سرائی کی جائے۔گندی اور غلیظ زبان آپ کے متعلق استعمال کی جائے، جماعت کو گالیاں دی جائیں اور پھر صرف یہی نہیں ہے بلکہ آئے دن یہ واقعات ہوتے ہیں کہ ان مسجدوں کی امامت اور فرقوں کے اختلاف کی وجہ سے آپس میں بھی ان کی گالم گلوچ رہتی ہے۔اب تو اکثر واقعات وائرل ہوتے رہتے ہیں کہ مسجدوں میں دنگا فساد ہو رہا ہے یا ایک دوسرے کو گالیاں دی جارہی ہیں۔پس یہ سب باتیں بتاتی ہیں کہ ان میں تقویٰ کی کمی ہے اور ان کی مساجد میں مسجد کا حقیقی جو حق ہے وہ ادا نہیں ہو رہا اور ان کے عمل جو ہیں ان سے ہم احمدیوں کو بھی سبق لینا چاہیے اور ہمیں یہ کوشش کرنی چاہیے کہ ہماری مسجد میں تقویٰ کی بنیاد پر ہوں۔پس ہم تقویٰ کو سامنے رکھتے ہوئے ان مسجدوں کو آباد کرنے کے لیے آئیں۔پس یہی اصل حقیقت ہے۔اگر یہ قائم رہے گی اور جب تک قائم رہے گی اس وقت تک ان شاء اللہ تعالیٰ اللہ تعالی کے فضلوں کے بھی وارث بنتے رہیں گے۔حضرت خلیفہ اول اس بارے میں فرماتے ہیں کہ لِمَنْ حَارَبَ اللہ اس کی تشریح فرماتے ہیں کہ : یہ ابو عامر کی طرف اشارہ ہے جو عیسائی تھا۔اس کے مکروں سے ایک مکر یہ بھی تھا کہ رسول کریم اس مسجد میں نماز پڑھ لیں۔پھر کچھ مسلمان ادھر بھی آجایا کریں اور اس طرح مسلمانوں کی جماعت کو توڑ لوں گا۔اس ابو عامر نے اپنا ایک رویا بھی مشتہر کر رکھا تھا کہ میں نے دیکھا ہے کہ نبی کریم وَحِیدًا طَرِيدًا شَرِیدا۔" کہ دھتکارے ہوئے (نعوذ باللہ ) تن تنہا فوت ہوں گے۔نبی کریم صلی ا ہم نے " اس کی یہ بات سن کر فرمایا کہ خواب سچا ہے۔" یہ ٹھیک کہتا ہے۔اصل میں بات یہ ہے کہ اس لیے سچا ہے کہ " اس نے اپنی حالت دیکھی ہے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔" آپ نے نام نہیں لیا اور اس کی بابت لکھتے ہیں کہ یہ نام نہ لینے میں اصل میں یہ بلاغت ہے کہ آئندہ بھی اگر کوئی ایسا کرے گا تو اس کا انجام بھی یہی ہو گا۔" 131 اور پھر ہم دیکھتے ہیں کہ آج بھی ایسے ہی دشمنوں کے انجام ہوتے چلے آرہے ہیں۔2 179 حضرت عاصم بن قیس 132 حضرت عاصم بن قیس حضرت عاصم بن قیس کا تعلق انصار کے قبیلہ تغلبہ بن عمرو سے تھا۔غزوہ بدر اور احد میں شریک ہوئے۔3 133