اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 39
اصحاب بدر جلد 5 39 پہنچ سکیں تو ان پر پتھر پھینکتے جائیں گے۔پھر آپ نے تین پتھر ایک ہاتھ میں اٹھائے اور دو دوسرے میں اور پھر کہا کہ جب وہ ہمارے اتنے قریب آجائیں کہ ہمارے نیزے ان تک پہنچ سکیں تو ان کے ساتھ نیزہ بازی کی جائے گی۔پھر جب نیزے بھی ٹوٹ جائیں گے تو انہیں تلواروں کے ذریعہ قتل کیا جائے گا۔اس پر رسول اللہ کی ٹیم نے فرمایا کہ اس طرح جنگ لڑی جاتی ہے۔اور پھر آپ نے فرمایا کہ جو کوئی قال کرے جنگ کرے تو عاصم کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق جنگ کرے۔114 آنحضرت ملا علم کی جنگوں کا دفاع ایک غیر مسلم مصنف کی زبان سے اس زمانے میں تو تیر اور نیزے اور تلواریں ہی تھیں جن سے جنگ کی جاتی تھی اور یہی جنگ کا طریق تھا بلکہ پتھر بھی استعمال کئے جاتے تھے۔آجکل کی طرح نہیں کہ معصوم شہریوں پر بمباری کر کے معصوموں اور بچوں کو بھی مار دیا جائے۔ایک غیر مسلم نے کتاب لکھی ہے۔آنحضرت صلی اللہ وسلم کی جنگوں کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ تم محمد صلی یہ تم پر الزام لگاتے ہو کہ انہوں نے جنگیں کیں مگر ان کی جنگوں میں تو چند سو یا ہر ار لوگ مرے ہوں گے اور تم جو اپنے آپ کو ترقی یافتہ اور انسانیت کے ہمدرد سمجھتے ہو تم نے صرف ایک جنگ میں (اس نے جنگ عظیم دوم کا حوالہ دیا کہ ) سات کروڑ سے زیادہ لوگوں کو مار دیا جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی۔لیکن آج بد قسمتی سے مسلمان بھی ان لوگوں سے ہی مدد لے رہے ہیں اور بلا امتیاز مسلمان مسلمانوں کا قتل کر رہے ہیں بجائے اس کے کہ وہ طریق کہ جب دشمن حملہ کرے اور دشمن قریب آئے تو اس سے جنگ کرنے کے جو مختلف طریقے ہیں۔(اس پر عمل کریں) یہ خود حملہ کر رہے ہیں اور معصوموں کو مار رہے ہیں۔عاصم بن ثابت نے بھی تلوار زنی میں کمال دکھایا ہے ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اُحد والے دن اپنی تلوار کے ساتھ واپس آئے جو کثرت قتال کی وجہ سے مڑ چکی تھی۔حضرت علی نے حضرت فاطمہ سے کہا کہ اس قابل ستائش تلوار کو رکھو۔یہ میدان جنگ میں خوب کام آئی ہے۔رسول اللہ صلی علیم نے ان کی یہ بات سنی۔اس پر آپ نے فرمایا کہ اگر تم نے آج کمال کی تلوار زنی کی ہے تو سہل بن حنیف اور ابو دجانہ اور عاصم بن ثابت اور حارث بن حمہ نے بھی تلوار زنی میں کمال دکھایا ہے۔115 جنگ بدر کے ایک قیدی کو اس لئے چھوڑ دیا کہ اس نے اپنی بیٹیوں کا واسطہ دیا ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی علیم نے بدر کے قیدیوں میں سے ابو عزّه عمر و بن عبد اللہ جو کہ ایک شاعر تھا، پر احسان کرتے ہوئے اسے آزاد کر دیا کیونکہ اس نے کہا تھا کہ اے محمد صلی علیکم میری پانچ بیٹیاں ہیں اور میرے علاوہ ان کا کوئی نہیں ہے۔پس آپ مجھے ان کی وجہ سے بطور صدقہ آزاد کر دیں۔تو رسول اللہ صلی علیم نے اسے آزاد کر دیا۔اس پر ابو عزة نے کہا کہ میں آپ سے پختہ عہد کرتا ہوں کہ میں آئندہ نہ تو آپ سے جنگ کروں گا اور نہ ہی کسی کی جنگ کے لئے معاونت کروں گا۔اس بات پر آپ نے