اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 40 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 40

اصحاب بدر جلد 5 40 40 اسے واپس بھجوا دیا اور بغیر کسی معاوضہ کے چھوڑ دیا۔جب قریش اُحد کی طرف نکلنے لگے تو صفوان بن امیہ آیا اور اس نے اسے کہا کہ تم بھی ہمارے ساتھ نکلو۔اس نے کہا کہ میں نے تو محمد صلی غلی کم سے پختہ عہد کیا ہے کہ میں کبھی بھی آپ سے جنگ نہیں کروں گا اور نہ ہی جنگ کے لئے معاونت کروں گا۔انہوں نے صرف مجھ پر یہ احسان کیا ہے اور میرے علاوہ کسی پر یہ احسان نہیں کیا۔تو صفوان نے اسے ضمانت دی کہ اگر وہ قتل کر دیا گیا تو اس کی بیٹیوں کو اپنی بیٹیاں بنالے گا اور وہ زندہ رہا تو اسے مال کثیر دے گا جس سے صرف اس کا عیال ہی کھائے گا۔(اسے لالچ دیا کہ تم فکر نہ کرو۔جنگ میں ہمارا ساتھ دو۔اگر جنگ میں قتل ہو گئے تو تمہاری بیٹیوں کو بھی بیٹیوں کی طرح رکھوں گا اور اگر بچ گئے تو بہت زیادہ مال دوں گا) اس پر ابو عزّة عرب کو بلانے اور اکٹھا کرنے نکلا۔(یہی نہیں کہ خود شامل ہوا بلکہ دوسرے قبائل کو ، دوسرے لوگوں کو مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے کے لئے اکٹھا کرنے کے لئے نکلا) پھر قریش کے ساتھ جنگ احد کے لئے بھی نکلا اور دوبارہ پھر جنگ میں قید کیا گیا۔اس کے علاوہ قریش میں سے کسی کو قید نہیں کیا گیا تھا۔جب پکڑا گیا تو پوچھا گیا کہ تم نے تو عہد کیا تھا۔اس نے کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں مجبوراً نکلا ہوں اور میری بیٹیاں ہیں۔پس مجھ پر احسان کر۔( دوبارہ وہی بات کی کہ میری بیٹیاں ہیں۔مجھ پر احسان کرو۔پہلے تو احسان کرتے ہوئے یہ چھوڑا گیا تھا اور پھر جنگ کے لئے نکلا تھا) اس پر رسول اللہ صلی امی نے فرمایا کہ تمہارا وہ عہد کہاں گیا جو تم نے میرے ساتھ کیا تھا۔ہر گز نہیں۔(اب یہ نہیں ہو سکتا) اللہ کی قسم ! اب تم مکہ میں یہ نہیں کہتے پھرو گے کہ میں نے دو دفعہ محمد کو ( نعوذ باللہ ) دھوکہ دیا اور بیوقوف بنایا۔ایک اور روایت کے مطابق نبی کریم صلی علیم نے فرمایا یقیناً مومین ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا۔پھر آپ نے حکم دیتے ہوئے عاصم بن ثابت کو کہا کہ اس کو قتل کر دو۔پس عاصم آگے بڑھے اور اس کی گردن اڑا دی۔116 اتنے ظلم کے بعد ، ایسی عہد شکنی کرنے کے بعد جب سزادی جاتی ہے تو پھر بھی آنحضرت صلی للی ام کی ذات پر اعتراض کرنے والے اعتراض کرتے ہیں کہ نعوذ باللہ آپ نے ظلم کیا۔اب ہالینڈ کا سیاستدان ولڈر (Wilder) جو ہے آجکل آپ کی ذات پر بڑے بڑھ چڑھ کر حملے کر رہا ہے۔اگر اس دنیا میں اپنے ملک میں بھی وہ ایسے معافی کے نمونے دکھائیں تو پھر سمجھ آئے گی کہ واقعی وہ کسی حد تک اعتراض میں جائز ہیں۔لیکن ایسی مثالیں وہ کبھی پیش نہیں کر سکتے۔واقعہ رجیع اور حضرت عاصم کا ذکر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے سیرۃ خاتم النبیین صلی علیکم میں بھی کیا ہے۔آپ لکھتے ہیں کہ نحضرت صلی یہ کم نے ماہ صفر چار ہجری میں اپنے دس صحابیوں کی ایک پارٹی تیار کی اور ان پر عاصم بن ثابت کو امیر مقرر فرمایا اور ان کو یہ حکم دیا کہ وہ خفیہ خفیہ مکہ کے قریب جا کر قریش کے حالات دریافت کریں اور ان کی کارروائیوں اور ارادوں سے آپ کو اطلاع دیں۔لیکن ابھی یہ پارٹی روانہ نہیں ہوئی تھی کہ قبائل عضل اور قارہ کے چند لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہمارے قبائل میں بہت سے آدمی اسلام کی طرف مائل ہیں۔آپ چند آدمی ہمارے ساتھ روانہ فرمائیں جو ہمیں مسلمان بنائیں اور اسلام کی تعلیم دیں۔آنحضرت صلی للی یکم ان کی یہ خواہش معلوم کر کے خوش ہوئے اور