اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 38
اصحاب بدر جلد 5 زمین بٹائی پر دینے کی ممانعت 38 حضرت رافع بن خدیج اپنے چا حضرت ظهیر بن رافع سے روایت کرتے تھے کہ حضرت ظهیر نے کہا کہ رسول اللہ صلی علیم نے ہمیں ایک ایسی بات سے منع فرمایا جو ہمارے لیے فائدہ مند تھی۔میں نے کہا جو رسول اللہ صلی علیکم نے فرمایا وہی بجا تھا۔ظہیر نے کہا کہ رسول اللہ صلی الم نے مجھے بلایا۔آپ نے پوچھا تم اپنے کھیتوں کو کیا کرتے ہو۔میں نے کہا کہ ہم انہیں ٹھیکے پر دے دیتے ہیں۔زمینیں ہیں جو ہم اس شرط پر ٹھیکے پر دے دیتے ہیں کہ جو نالیوں کے قریب پیداوار ہو وہ ہم لیں گے یعنی جو پانی کے قریب جگہ ہے وہاں اچھی فصل ہو گی وہ ہم لیں گے اور کھجور اور جو میں چند وسق کے حساب سے لیں گے۔ایک وسق میں ساٹھ صاع ہوتے ہیں اور ایک صاع اڑھائی کلو کے قریب ہوتا ہے۔تو آنحضرت صلی اللہ ہم نے یہ سن کے فرمایا کہ ایسانہ کیا کرو۔تم خود اس میں کاشت کرو یا ان میں کاشت کر اؤ یا انہیں خالی رہنے دو۔حضرت رافع کہتے تھے کہ میں نے کہا میں نے سن لیا اور اب ایسا ہی ہو گا۔110 اس کے بعد ہم خود کاشت کیا کرتے تھے یا ایسے طریقے سے لیتے تھے جہاں حق دار کو اس کا حق بھی مل جائے۔111 177 حضرت عاصم بن ثابت آنحضرت علی ایم کے نامز د تیر اندازوں میں سے ایک حضرت عاصم بن ثابت آنحضرت صلی علیکم کے ایک صحابی تھے۔ان کے والد تھے ثابت بن قیس اور ان کی والدہ کا نام شموس بنت ابو عامر تھا۔رسول اللہ صلی علی یکم نے ان کے اور حضرت عبد اللہ بن بخش کے درمیان مواخات قائم فرمائی تھی۔غزوہ اُحد کے موقع پر جب کفار کے اچانک شدید حملے کی وجہ سے مسلمانوں میں بھگدڑ مچی تو حضرت عاصم آنحضرت صلی علی یکم کے ساتھ ثابت قدم رہے۔انہوں نے آپ صلی میڈم سے موت پر بیعت کی تھی۔آنحضرت صلی اللہ ہلم کے نامز د تیر اندازوں میں یہ شامل تھے۔ان کا تعلق قبیلہ اوس سے تھا۔جنگ بدر میں بھی شریک تھے۔113 112 عاصم کے بتائے ہوئے طریق پر جنگ کرو آنحضرت صلی علیکم نے بدر والے دن صحابہ سے پوچھا کہ جب تم دشمن کے مد مقابل آؤ گے تو ان سے کیسے لڑو گے ؟ حضرت عاصم نے عرض کیا یا رسول اللہ جب کوئی قوم اتنی قریب آجائے گی کہ ان تیر پہنچ سکیں تو ان پر تیر برسائے جائیں گے۔پھر جب وہ ہمارے اور قریب آجائیں کہ ان تک پتھر