اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 351 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 351

اصحاب بدر جلد 5 351 مکہ میں اس نے لوگوں کو رسول کریم صلی اللی کام کو تکلیف پہنچانے سے روکا تھا۔( اس کے عوض آنحضرت صلی ا لی مریم نے فرمایا کہ اس کو قتل نہیں کرنا) اور وہ خود بھی آنحضرت صلی الللم کو کوئی تکلیف نہیں پہنچا تا تھا اور وہ ان لوگوں میں سے تھا جو اس معاہدے کے خلاف کھڑے ہوئے تھے جو قریش نے بنو ہاشم اور بنی مطلب کے خلاف کیا تھا۔حضرت مُجَنَّد ابو بجگری سے ملے اور کہا کہ رسول اللہ صلی علیم نے ہمیں تمہارے قتل سے روکا ہے۔ابو بیٹری کے ساتھ اس کا ایک ساتھی بھی تھا جو اس کے ساتھ مکہ سے نکلا تھا۔اس کا نام جنادة بن مدیحہ تھا جو بنو لیث سے تھا۔ابو بختری کا نام عاص تھا۔اس نے کہا کہ میرے اس ساتھی کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ حضرت مُجنَّڈ نے کہا کہ نہیں۔اللہ کی قسم ! ہم تمہارے ساتھی کو نہیں چھوڑیں گے۔رسول اللہ صلی علی رام نے ہمیں صرف تمہارے اکیلے کے متعلق حکم دیا ہے۔اس نے کہا کہ اگر مریں گے تو پھر ہم دونوں اکٹھے مریں گے۔میں یہ گوارا نہیں کر سکتا کہ مکہ کی عور تیں یہ بیان کرتی پھریں کہ میں نے اپنی زندگی کی خاطر اپنے ساتھی کو چھوڑ دیا۔پھر وہ دونوں ان سے (حضرت مجذر سے) لڑائی کے لئے تیار ہو گئے اور لڑائی میں حضرت مُجَنَّز نے اسے قتل کر دیا۔حضرت مجدد رسول کریم صلی الم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا میں نے اس کو بہت اصرار کے ساتھ کہا کہ وہ اسیر ہو جائے اور اسے میں آپ کے پاس لے آتا مگر وہ اس پر رضامند نہ ہوا اور آخر اس نے مجھ سے لڑائی کی اور میں نے اسے قتل کر دیا۔852 حضرت مجدد کی اولا د مدینہ اور بغداد میں موجود تھی۔ابی و جزہ سے مروی ہے کہ شہدائے اُحد کے جو تین آدمی ایک قبر میں دفن کئے گئے تھے وہ مُجلّد بن زیاد ، نُعْمان بن مالك اور عبده بن حَسْحَاس 853 لیکن ایک روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ حضرت انیسہ بنت عدی آنحضرت صلی ال یکم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی علیکم میرا بیٹا عبد اللہ جو بدری ہے غزوہ اُحد میں شہید ہو گیا ہے۔میری خواہش ہے کہ میں اپنے بیٹے کو اپنے مکان کے قریب دفن کروں تا کہ مجھے اس کا قرب حاصل رہے۔حضور علی ای ایم نے اجازت عطا فرمائی اور یہ فیصلہ بھی ہوا کہ حضرت عبد اللہ کے ساتھ ان کے دوست حضرت مُجنَّڈ کو بھی ایک ہی قبر میں دفن کیا جائے۔چنانچہ دونوں دوستوں کو ایک ہی کمبل میں لپیٹ کر اونٹ پر رکھ کر مدینہ بھیجا گیا ان میں سے عبد اللہ ذراد بلے پتلے تھے اور ٹھنڈ کیم اور جسیم تھے۔کہتے ہیں روایت میں آتا ہے کہ اونٹ پر دونوں برابر اترے یعنی وزن ایک جیسا تھا۔اتارنے والوں نے دیکھا تو لوگوں نے اس پر حیرت کا اظہار کیا تو آنحضرت صلی اللہ نیلم نے فرمایا کہ دونوں کے اعمال نے ان کے درمیان برابری کر دی۔854 موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ہے کہ لوگوں کا خیال ہے کہ ابوئیسر نے ابو بھری کو قتل کیا اور بہت سے