اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 350
اصحاب بدر جلد 5 350 پوچھا کہ آپ کہاں ہیں تو انہوں نے بتایا کہ میں جنت میں ہوں۔ہم جہاں چاہتے ہیں جنت میں کھاتے پیتے ہیں۔میں نے ان سے کہا کہ کیا آپ بدر میں شہید نہیں ہو گئے تھے ؟ آپ نے بتایا ہاں کیوں نہیں۔لیکن مجھے پھر زندہ کر دیا گیا تھا۔اس صحابی نے یہ خواب رسول اللہ صلی علیہ ہم کو سنایا تور سول اللہ صلی علیم نے فرمایا کہ اے ابو جابر !شہادت یہی ہوتی ہے۔شہید جو ہے وہ پھر اللہ تعالیٰ کے پاس جاتا ہے اور وہاں آزاد پھر تا ہے۔8496 علامہ زرقانی غزوہ بدر کے موقع پر شہید ہونے والے صحابہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ دو صحابہ قبیلہ اوس میں سے تھے جن میں سے ایک حضرت سعد بن خَيْقمه " تھے۔بعض کہتے ہیں کہ طعيمه بن عدی نے انہیں شہید کیا جبکہ بعض کہتے ہیں کہ عمرو بن عَبدِ وُڈ نے انہیں شہید کیا تھا۔سمهودی نے اپنی کتاب 'وفا' میں لگا ہے کہ اھل سیر کے کلام سے ظاہر ہے یعنی جو سیرت لکھتے ہیں کہ غزوہ بدر کے موقع پر شہید ہونے والے صحابہ ماسوائے حضرت عبیدہ کے بدر میں مدفون ہیں۔حضرت عبیدہ کی وفات کچھ دیر بعد ہوئی تھی اور وہ صفراء یار وحاء کے مقام پر مدفون ہیں۔طبرانی نے ثقہ راویوں سے روایت کی ہے کہ حضرت ابنِ مسعود روایت کرتے ہیں کہ یقینا رسول اللہ صلی ال نیلم کے وہ اصحاب جو بدر کے دن شہید کیے گئے اللہ ان کی روحوں کو جنت میں سبز پرندوں میں رکھے گا جو جنت میں کھائیں پئیں گے۔وہ اسی حال میں ہوں گے کہ ان کا رب اچانک ان پر مطلع ہو گا، ظاہر ہو گا اور کہے گا اے میرے بندو! تم کیا چاہتے ہو ؟ پس وہ کہیں گے اے ہمارے رب ! کیا اس سے اوپر بھی کوئی چیز ہے۔جنت میں ہم آئے ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ پھر پوچھے گا تم کیا چاہتے ہو ؟ چنانچہ چوتھی مرتبہ صحابہ کہیں گے کہ تو ہماری روحوں کو ہمارے جسموں میں واپس لوٹا دے تاکہ ہم پھر سے ویسے ہی شہید کیے جائیں جیسے ہم پہلے شہید کیے گئے تھے۔850 272 حضرت مُجدد بن زياد " حضرت مجدد بن زیاد۔غزوہ اُحد میں ان کی شہادت ہوئی۔مُجند آپ کا لقب تھا اس کا مطلب موٹے جسم والا۔رسول کریم صلی علیم نے حضرت مُجنَّد اور عاقل بن بکیر کے درمیان مواخات قائم فرمائی تھی۔دوسری جگہ یہ آیا ہے کہ رسول کریم صلی علیم نے حضرت مُجَنَّد اور حضرت عُکاشہ بن محصن کے درمیان مواخات قائم فرمائی تھی۔حضرت مُجَلد غزوہ بدر اور غزوہ اُحد میں شریک ہوئے۔851 ابن اسحاق نے بیان کیا ہے کہ نبی کریم صلی ا ہم نے ابو بختری کو قتل کرنے سے منع فرمایا تھا کیونکہ