اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 281
اصحاب بدر جلد 5 281 کے چاند کی طرح روشن ہوں گے۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عکاشہ بن محصن اپنی چادر اٹھاتے ہوئے کھڑے ہوئے اور عرض کی کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ سے دعا کریں کہ مجھے بھی ان میں سے بنادے۔تو رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا اے اللہ ! اسے بھی ان میں شامل کر دے۔پھر انصار میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور عرض کی یارسول اللہ صلی علیکم اللہ سے دعا کریں کہ مجھے بھی ان میں سے بنا دے۔تو رسول اللہ صلی امام نے فرمایا کہ سَبَقَكَ بِهَا عُکاشہ کہ عکاشہ اس بارے میں تجھ پر سبقت لے گیا ہے۔634 اس واقعہ کو بیان کرتے ہوئے اپنی سیرت کی کتاب میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے لکھا ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی علیم کی مجلس میں ذکر ہوا کہ میری اُمت میں سے ستر ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔یعنی وہ ایسے روحانی مرتبہ پر فائز ہوں گے کہ ان کے لئے خدائی فضل و کرم اس قدر جوش میں ہو گا کہ ان کے حساب کتاب کی ضرورت نہیں ہو گی۔اور آپ مئی الی یکم نے یہ بھی فرمایا کہ ان لوگوں کے چہرے قیامت کے دن اس طرح چمکتے ہوں گے جس طرح چودہویں رات کا چاند آسمان پر چمکتا ہے۔اس پر حضرت عکاشہ نے عرض کیا کہ میرے لئے بھی دعا کریں اور آپ نے دعا کی کہ ان کو بھی ان میں شامل کر دے۔اس پر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے بڑے خوبصورت رنگ میں اس کی تفسیر بیان کی ہے اور تجزیہ کیا ہے۔آپ لکھتے ہیں کہ آنحضرت علی ایم کی مجلس کا یہ ایک بظاہر چھوٹا سا واقعہ اپنے اندر بہت سے معارف کا خزانہ رکھتا ہے۔کیونکہ اول تو اس سے یہ علم حاصل ہوتا ہے کہ اُمت محمدیہ پر اللہ تعالیٰ کا اس فضل و کرم ہے اور آنحضرت صلی علیکم کا روحانی فیض اس کمال کو پہنچا ہوا ہے کہ آپ کی اُمت میں سے ستر ہزار آدمی ایسا ہو گا جو اپنے نمایاں روحانی مقام اور خدا کے خاص فضل و کرم کی وجہ سے گویا قیامت کے دن حساب و کتاب کی پریشانی سے بالا سمجھا جائے گا۔ستر ہزار سے یہ بھی مراد لی جاتی ہے کہ ایک بڑی تعداد ہو گی۔دوسرے اس سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ آنحضرت صلی علیہ ہم کواللہ تعالیٰ کے دربار میں ایسا قرب حاصل ہے کہ آپ کی روحانی توجہ پر خدا تعالیٰ نے فور ابذریعہ کشف یا القاء آپ کو یہ علم دے دیا کہ عکاشہ بھی اس ستر ہزار کے گروہ میں شامل ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ عکاشہ پہلے اس گروہ میں شامل نہ ہو مگر آپ کی دعا کے نتیجہ میں خدا نے اسے یہ شرف عطا کر دیا ہو۔تیسرے اس واقعہ سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ آنحضرت صلی علیہ کو اللہ تعالی کا اس درجہ ادب ملحوظ تھا اور آپ اپنی امت میں جدو جہد کے عمل کو اس درجہ ترقی دینا چاہتے تھے کہ جب عُکاشہ کے بعد ایک دوسرے شخص نے آپ سے اسی قسم کی دعا کی درخواست کی تو آپ نے اس اخص روحانی مقام کے پیش نظر جو اس پاک گروہ کو حاصل ہے مزید انفرادی دعا سے انکار کر دیا اور مسلمانوں کو تقویٰ اور ایمان اور درجه