اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 282
اصحاب بدر جلد 5 282 عمل صالح میں ترقی کرنے کی طرف توجہ دلائی۔اور یہ بتایا کہ اگر اس طرف توجہ رہے گی تو تمہیں مقام مل سکتا ہے۔چوتھے اس سے آپ کے اعلیٰ اخلاق پر یعنی آنحضرت صلی علی نام کے اعلیٰ اخلاق پر بھی غیر معمولی روشنی پڑتی ہے۔کیونکہ آپ صلی اللہ ہم نے انکار ایسے رنگ میں نہیں کیا جس سے سوال کرنے والے انصاری کی دل شکنی ہو بلکہ ایک نہایت لطیف رنگ میں اس بات کو ٹال دیا۔635 مختلف سر ایا میں امیر بنایا جانا حضرت نبی کریم صلی ال نیلم نے حضرت عُکاشہ کو مختلف سرایا میں ، جنگوں میں جو فوجیں بھیجی جاتی تھیں ان میں امیر بنا کر بھیجا۔رسول اللہ صلی علی ایم نے ربیع الاول چھ ہجری میں حضرت عُکاشہ کو چالیس مسلمانوں کا افسر بنا کر قبیلہ بنی اسد کے مقابلے پر روانہ فرمایا۔یہ قبیلہ ایک چشمہ کے قریب ڈیرہ ڈالے پڑا تھا جس کا نام غمر تھا جو مدینہ سے مکہ کی سمت میں چند دن کے فاصلے پر تھا۔شکلشہ کی پارٹی جلدی جلدی سفر کر کے قریب پہنچی تا کہ انہیں شرارت سے روکا جائے تو معلوم ہوا کہ قبیلے کے لوگ مسلمانوں کی خبر پا کر ادھر اُدھر منتشر ہو گئے تھے۔اس پر خکلشہ اور ان کے ساتھی مدینہ کی طرف واپس لوٹ آئے اور کوئی لڑائی نہیں ہوئی۔یعنی جو الزام لگایا جاتا ہے کہ ان لوگوں کو یا مسلمانوں کو جنگوں کا خاص شوق تھا۔لیکن ان لوگوں نے ان سے بلاوجہ کی جنگ ہونے کی بھی کوشش نہیں کی۔636 عکاشہ کار سول اللہ صلی کم سے بدلہ لینے کے لئے کھڑا ہونا۔حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ جب آنحضرت صلی الم پر سورۃ النصر نازل ہوئی تو آپ مکئی ایم نے حضرت بلال کو اذان دینے کا حکم دیا۔نماز کے بعد آپ صلی علیم نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا جسے سن کر لوگ بہت روئے۔پھر آپ صلی سلیم نے پوچھا: اے لوگو میں کیسا نبی ہوں ؟ اس پر ان لوگوں نے کہا اللہ آپ کو جزا دے۔آپ سب سے بہترین نبی ہیں۔آپ ہمارے لئے رحیم باپ کی طرح اور شفیق اور نصیحت کرنے والے بھائی کی طرح ہیں۔آپ نے ہم تک اللہ کے پیغام پہنچائے اور اس کی وحی پہنچائی اور حکمت اور اچھی نصیحت سے ہمیں اپنے رب کے راستے کی طرف بلایا۔پس اللہ آپ کو بہترین جزا دے جو وہ اپنے انبیاء کو دیتا ہے۔پھر آپ صلی علیکم نے فرمایا: اے مسلمانوں کے گروہ ! میں تمہیں اللہ کی اور تم پر اپنے حق کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ اگر کسی پر میری طرف سے کوئی ظلم یازیادتی ہوئی ہو تو وہ کھڑا ہو اور میرے سے بدلہ لے۔مگر کوئی کھڑا نہ ہوا۔آپ صلی علیم نے دوسری بار قسم دے کر کہا مگر کوئی کھڑا نہ ہوا۔آپ نے تیسری بار پھر فرمایا کہ اے مسلمانوں کے گروہ !میں تمہیں اللہ اور تم پر اپنے حق کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ اگر کسی پر میری طرف سے کوئی ظلم یا زیادتی ہوئی ہو تو وہ اٹھے اور قیامت کے