اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 467
ناب بدر جلد 4 467 پھر وہ نبی کریم صلی علی یکم کو اپنے گھر لے گئے اور کشمش پیش کی۔نبی کریم صلی الی یکم نے اسے تناول کرنے کے بعد فرمایا تمہارا کھانا نیک لوگ کھاتے رہیں اور تم پر ملائکہ رحمت کی دعائیں کرتے رہیں اور روزے دار تمہارے ہاں افطاری کرتے رہیں۔آپ نے ان کو دعا دی۔اصحاب صفہ کا سب سے زیادہ خیال رکھنے والے 1102 1101 علامہ ابن سیرین بیان کرتے ہیں کہ اہل صفہ جب شام کرتے تو ان میں سے کوئی شخص کسی ایک یا دو کو کھانا کھلانے کے لیے لے جاتا تاہم حضرت سعد بن عبادہ اُستی اہل صفہ کو کھانا کھلانے کے لیے اپنے ساتھ لے جاتے۔02 یعنی اکثر یہ ہوتا تھا لیکن ایسی روایات بھی ہیں کہ اہل صفہ پر ایسے دن بھی آئے جب ان کو بھوکا بھی رہنا پڑا۔بہر حال صحابہ عموماً ان غرباء کا خیال رکھا کرتے تھے جو آنحضرت صلی نیلم کے در پر بیٹھے ہوتے تھے اور ان کا سب سے زیادہ خیال رکھنے والے حضرت سعد بن عبادہ تھے۔مدینہ میں امیر بنایا جانا آنحضرت صلی علیم نے مدینہ تشریف لانے کے ایک سال بعد ماہ صفر میں ابواء، جو مدینہ سے مکے کی شاہراہ پر مجحفہ سے 23 میل دور واقع ہے۔یہاں نبی کریم صلی علیم کی والدہ حضرت آمنہ کی قبر بھی ہے، اس کی طرف کوچ فرمایا۔آپ کا جھنڈ اسفید رنگ کا تھا۔اس موقع پر رسول اللہ صلی علیم نے مدینے میں حضرت سعد بن عبادہ کو اپنا جانشین یا امیر مقرر فرمایا۔1103 غزوة ابواء غزوۂ ابواء کا دوسرا نام غزوۂ وَذَان بیان کیا جاتا ہے۔سیرت خاتم النبیین میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے غزوۂوڈان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے۔یہ لکھتے ہیں کہ آنحضرت علی یہ کام کا طریق تھا کہ کبھی تو خود صحابہ کو ساتھ لے کر نکلتے تھے اور کبھی کسی صحابی کی امارت میں کوئی دستہ روانہ فرماتے تھے۔مؤرخین نے ہر دو قسم کی مہموں کو الگ الگ نام دیے ہیں۔چنانچہ جس مہم میں آنحضرت صلی للی یک خود بنفس نفیس شامل ہوئے ہوں اس کا نام مؤرخین غزوہ رکھتے ہیں اور جس میں آپ خود شامل نہ ہوئے ہوں اس کا نام سریه یا بعث رکھا جاتا ہے مگر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ غزوہ اور سریہ دونوں میں مخصوص طور پر جہاد بالسیف کی غرض سے نکلناضروری نہیں۔"ضروری نہیں ہے کہ تلوار کے جہاد کے لیے نکالا جائے۔" بلکہ ہر وہ سفر جس میں آپ جنگ کی حالت میں شریک ہوئے ہوں غزوہ کہلا تا ہے خواہ وہ خصوصیت کے ساتھ لڑنے کی غرض سے نہ کیا گیا ہو اور اسی طرح ہر وہ سفر جو آپ کے حکم سے کسی جماعت نے کیا ہو مؤرخین کی اصطلاح میں سیریه یابغث کہلاتا ہے خواہ اس کی غرض وغایت لڑائی نہ ہو لیکن بعض لوگ ناواقفیت سے ہر غزوہ اور سریہ کو لڑائی کی مہم سمجھنے لگ جاتے