اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 466
تاب بدر جلد 4 آنحضرت مصلی کام کو ہم پر زیادہ سلام کر لینے دو 466 حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ نے رسول اللہ صلی ا یکم کی خدمت میں عرض کیا کہ یارسول اللہ ! آپ ہمارے گھر تشریف لائیں تو آنحضرت صلی یہ کی سعد کے ہمراہ ان کے گھر تشریف لے گئے۔حضرت سعد کھجور اور تیل لے آئے پھر آنحضور صلی لی نام کے لیے دودھ کا پیالہ لائے جس میں 1099 الله سة سے آپ نے پیا۔قیس بن سعد، سعد بن عبادہ کے بیٹے ہیں ، بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ال کی ملاقات کے لیے ہمارے گھر تشریف لائے تو آپ نے فرمایا السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ الله۔آنحضرت علی الم نے گھر والوں کو سلام کیا۔قیس نے کہا کہ میرے والد سعد نے آہستہ سے جواب دیا۔قیس نے کہا میں نے ان سے پوچھا، اپنے باپ سے پوچھا کہ آپ رسول اللہ صلی علیم کو اندر آنے کا نہیں کہیں گے ؟ حضرت سعد نے، باپ نے بیٹے کو یہ جواب دیا کہ آنحضرت صلی علیہ کم کو ہم پر زیادہ سلام کر لینے دو۔رسول اللہ صلی علیکم پھر سلام کر کے واپس ہوئے۔یعنی آپ نے کہا کہ آنحضرت صلی علی ایم نے سلام کیا۔میں نے آہستہ سے جواب دیا کہ آنحضرت صلی علیکم دوبارہ سلام کریں گے تو اس طرح ہمارے گھر میں سلامتی پہنچے گی۔بہر حال کہتے ہیں رسول اللہ صلی علیکم سلام کر کے واپس ہوئے تو پھر سعد آپ کے پیچھے گئے اور عرض کیا: یارسول اللہ ! میں آپ کے سلام کو سنتا اور آپ کو آہستہ سے جواب دیتا تا کہ آپ ہم پر زیادہ سلام بھیجیں۔پھر آپ سعد کے ہمراہ لوٹ آئے۔سعد نے آنحضرت صلی الم سے غسل کا عرض کیا۔آپ نے غسل فرمایا۔سعد نے آپ کو زعفران یا ؤرس جو یمن کے علاقے میں پیدا ہونے والا ایک زر در نگ کا پودا ہے جس سے کپڑے رنگے جاتے ہیں اس سے رنگا ہوا ایک لحاف دیا۔آپ نے اسے ارد گرد لپیٹ لیا۔پھر رسول اللہ صلی علیکم نے اپنے ہاتھ اٹھا کر فرمایا۔اے اللہ ! اپنے درود اور اپنی رحمت سعد بن عبادہ کی اولاد پر نازل کر 1100 یہ روایت حضرت انس سے اس طرح مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی نیلم نے حضرت سعد بن عبادہ کے ہاں اندر آنا چاہا، گھر میں جانا چاہا اور السلام علیکم ورحمتہ اللہ کہا۔حضرت سعد نے آہستہ سے کہا وعلیک السلام ورحمتہ اللہ جو نبی کریم صلی کم کو نائی نہ دیا حتی کہ نبی کریم صلی لی ہم نے تین مرتبہ سلام کیا اور سعد نے تینوں مرتبہ اسی طرح جواب دیا کہ نبی کریم صلی یی کم کو سنائی نہ دیا۔چنانچہ نبی کریم صلی علی کی واپس تشریف لے گئے۔حضرت سعد آپ کے پیچھے گئے اور کہنے لگے یار سول اللہ صلی اللی کم میرے ماں باپ آپ پر قربان۔آپ نے جتنی مرتبہ بھی سلام کہا میں نے اپنے کانوں سے سنا اور اس کا جواب دیا لیکن آپ کو نہیں سنایا۔آپ کو میری آواز نہیں آئی۔میں چاہتا تھا کہ آپ کی سلامتی اور برکت کی دعا کثرت سے حاصل کروں۔