اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 468 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 468

اصحاب بدر جلد 4 468 ہیں جو درست نہیں ہے۔یہ بیان کیا جا چکا ہے کہ جہاد بالسیف کی اجازت ہجرت کے دوسرے سال ماہ صفر میں نازل ہوئی۔" تھی۔یہ گذشتہ خطبوں میں پہلے بھی بیان ہو چکا ہے۔"چونکہ قریش کے خونی ارادوں اور ان کی خطرناک کارروائیوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کو محفوظ رکھنے کے لیے فوری کارروائی کی ضرورت تھی اس لیے آپ اسی ماہ میں مہاجرین کی ایک جماعت کو ساتھ لے کر اللہ تعالیٰ کا نام لیتے ہوئے مدینہ سے نکل کھڑے ہوئے۔روانگی سے قبل آپ نے اپنے پیچھے مدینہ میں سعد بن عبادہ رئیس خزرج کو امیر مقرر فرمایا اور یدینہ سے جنوب مغرب کی طرف مکہ کے راستہ پر روانہ ہو گئے اور بالآخر مقام وڈان تک پہنچے۔" اس کی یہ تفصیل پہلے بھی بیان ہو چکی ہے۔" اس علاقہ میں قبیلہ بنو ضمرہ کے لوگ آباد تھے۔یہ قبیلہ بنو کنانہ کی ایک شاخ تھا اور اس طرح گویا یہ لوگ قریش کے چچا زاد بھائی تھے۔یہاں پہنچ کر آنحضرت صلی للہ ہم نے قبیلہ بنو ضمرہ کے رئیس کے ساتھ بات چیت کی اور باہم رضامندی سے آپس میں ایک معاہدہ ہو گیا جس کی شرطیں یہ تھیں کہ بنو ضمرہ مسلمانوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھیں گے اور مسلمانوں کے خلاف کسی دشمن کی مدد نہیں کریں گے اور جب آنحضرت صلی ا یکم ان کو " یعنی بنو ضمرہ کو " مسلمانوں کی مدد کے لیے بلائیں گے تو وہ فوراً آجائیں گے۔دوسری طرف آپ نے مسلمانوں کی طرف سے یہ عہد کیا کہ تمام مسلمان قبیلہ بنو ضمرہ کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھیں گے اور بوقت ضرورت ان کی مدد کریں گے۔یہ معاہدہ با قاعدہ لکھا گیا اور فریقین کے اس پر دستخط ہوئے اور پندرہ دن کی غیر حاضری کے بعد آنحضرت صلی الیہ کو واپس تشریف لے آئے۔غزوہ ودان کا دوسرا نام غزوہ ابواء بھی ہے کیونکہ وڈان کے قریب ہی ابواء کی بستی بھی ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں آنحضرت صلی اللہ کم کی والدہ ماجدہ کا انتقال ہوا تھا۔مؤرخین لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی علی کم کو اس غزوے میں بنو عمرہ کے ساتھ قریش مکہ کا بھی خیال تھا۔اس کا مطلب یہی ہے کہ دراصل آپ کی یہ مہم قریش کی خطر ناک کارروائیوں کے سدباب کے لیے تھی اور اس میں اس زہر یلے اور خطر ناک اثر کا ازالہ مقصود تھا جو قریش کے قافلے وغیرہ مسلمانوں کے خلاف قبائل عرب میں پیدا کر رہے تھے۔" قریش مسلمانوں کے خلاف قبیلوں میں جاکے پراپیگینڈہ کرتے تھے۔" اور جس کی وجہ سے مسلمانوں کی حالت ان ایام میں بہت نازک ہو رہی تھی۔11041 غزوہ بدر میں شامل نہ ہونے کے باوجو د بدر کے مال غنیمت میں سے حصہ عنایت فرمایا حضرت سعد بن عبادہ کے غزوہ بدر میں شامل ہونے کے بارے میں دو آرا بیان کی جاتی ہیں۔واقدی، مداینی اور ابنِ گلبی کے نزدیک یہ غزوہ بدر میں شامل ہوئے تھے۔جبکہ ابن اسحاق اور ابن عقبہ اور ابن سعد کے نزدیک یہ غزوہ بدر میں شامل نہیں ہوئے تھے۔بہر حال اس کی ایک وضاحت طبقات الکبریٰ کی ایک روایت کے مطابق اس طرح ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ غزوہ بدر میں حاضر نہیں ہوئے تھے۔وہ روانگی کی تیاری کر رہے تھے اور انصار کے گھروں