اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 441 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 441

اصحاب بدر جلد 4 441 لوگوں کے لیے مہربان ماں جیسے ہیں۔وہ ان کے لیے ایسے جمع کرتے ہیں جیسے چیونٹی جمع کرتی ہے۔جنگ کے وقت لوگوں میں سے سب سے زیادہ بہادر ہیں اور قریش میں سے لوگوں کے سب سے زیادہ محبوب ہیں۔وفات 1039 حضرت سعد بن ابی وقاص نے 155 ہجری میں وفات پائی۔وفات کے وقت آپ کی عمر ستر برس سے کچھ زیادہ تھی۔بعض کے نزدیک آپ کی عمر چوہتر سال تھی جبکہ بعض کے نزدیک آپ کی عمر تر اسی سال تھی۔1040 حضرت سعد بن ابی وقاص کی وفات کے سال کے بارے میں اختلاف ہے۔مختلف روایات میں آپ کی وفات کا سال اکاون ہجری سے لے کر اٹھاون ہجری تک ملتا ہے لیکن اکثر نے آپ کی وفات کا 1041 سال پچپن ہجری بیان کیا ہے۔حضرت سعد بن ابی وقاص نے وفات کے وقت اڑھائی لاکھ درہم ترکے میں چھوڑے۔2 جنازہ مسجد نبوی میں اور ازواج مطہرات کی شرکت 1042 حضرت سعد بن ابی وقاص نے عقیق مقام پر وفات پائی جو مدینے سے سات میل کے فاصلے پر تھایا دس میل کے فاصلے پر تھا۔بعض کہتے ہیں کہ وہاں سے لوگ آپ کی میت کو کندھوں پر رکھ کر مدینہ لائے اور مسجد نبوی میں نماز جنازہ ادا کی گئی۔آپ کا جنازہ مروان بن حکم نے پڑھا جو اس وقت مدینے کا حکمران تھا۔آپ کی نماز جنازہ میں ازواج مطہرات نے بھی شرکت فرمائی۔آپ کی تدفین جنت البقیع میں ہوئی۔1043 حضرت سعد بن ابی وقاص کے جنازے کے بارے میں روایت ملتی ہے۔حضرت عبد اللہ بن زبیر حضرت عائشہ سے بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت سعد بن ابی وقاص کی وفات ہوئی تو نبی صلی الیکم کی ازواج مطہرات نے یہ کہلا بھیجا کہ لوگ ان کا جنازہ لے کر مسجد میں آئیں تا کہ وہ یعنی ازواج بھی ان کی نماز جنازہ پڑھیں۔چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔جنازہ ان کے حجروں کے سامنے رکھا گیا تا کہ وہ نماز جنازہ پڑھ لیں۔پھر انہیں باب الجنائز سے باہر لے جایا گیا جو بیٹھنے کی جگہوں کے پاس تھا۔پھر ان ازواج مطہرات کو یہ بات پہنچی کہ لوگوں نے اس بات پر نکتہ چینی کی ہے اور کہتے ہیں کہ جنازے مسجد میں داخل نہیں کیے جاتے تھے۔حضرت عائشہ کو یہ بات پہنچی تو انہوں نے کہا کہ لوگ کتنی جلدی ایسی باتوں پر نکتہ چینی کرنے لگ جاتے ہیں جن کا ان کو علم نہیں ہو تا۔انہوں نے ہم پر اعتراض کیا ہے یعنی حضرت عائشہ نے کہا کہ لوگوں نے ہم پر یہ اعتراض کیا ہے کہ جنازہ مسجد میں سے گزارا گیا حالانکہ رسول اللہ صلی علیم نے سہیل بن بیضاء کی نماز جنازہ مسجد کے اندر ہی پڑھی تھی۔یہ مسلم کی روایت ہے۔1044