اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 442 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 442

اصحاب بدر جلد 4 442 1045 حضرت سعد بن ابی وقاص نے اپنی مرض الموت میں وصیت کی کہ میرے لیے لحد بنانا اور مجھ پر اینٹیں نصب کرنا جیسا کہ رسول اللہ صلی نیلم کے لیے کیا گیا تھا۔یہ بھی مسلم کی روایت ہے۔جو جبہ غزوہ بدر کے دن پہنا تھا اس کا کفن حضرت سعد بن ابی وقاص نے مہاجرین مردوں میں سے سب سے آخر پر وفات پائی۔حضرت سعد بن ابی وقاص نے اپنی وفات کے وقت ایک اونی جبہ نکالا اور وصیت کی کہ مجھے اس کا کفن پہنانا کیونکہ میں اس جسے کو پہن کر غزوہ بدر میں شامل ہوا تھا اور میں نے اسے اسی وقت کے لیے یعنی وفات کے وقت کے لیے سنبھال کر رکھا تھا۔1046 حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب سیرت خاتم النبیین میں لکھتے ہیں کہ ”حضرت عمرؓ کے زمانہ میں بھی جب صحابہ کے وظیفے مقرر ہوئے تو بدری صحابیوں کا وظیفہ ممتاز طور پر خاص مقرر کیا گیا۔خود بدری صحابہ بھی جنگ بدر کی شرکت پر خاص فخر کرتے تھے۔چنانچہ مشہور مستشرق ولیم میور صاحب لکھتے ہیں۔بدری صحابی اسلامی سوسائٹی کے اعلیٰ ترین رکن سمجھے جاتے تھے۔سعد بن ابی وقاص جب 80 سال کی عمر میں فوت ہونے لگے تو انہوں نے کہا کہ مجھے وہ چوغہ لا کر دو جو میں نے بدر کے دن پہنا تھا اور جسے میں نے آج کے دن کے لیے سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔یہ وہی سعد تھے جو بدر کے زمانہ میں بالکل نوجوان تھے اور جن کے ہاتھ پر بعد میں ایران فتح ہوا اور جو کو فہ کے بانی اور عراق کے گورنر بنے مگر ان کی نظر میں یہ تمام عزتیں اور فخر جنگ بدر میں شرکت کے عزت و فخر کے مقابلے میں بالکل پیچ تھیں اور جنگ بدر والے دن کے لباس کو وہ اپنے واسطے سب خلعتوں سے بڑھ کر خلعت سمجھتے تھے اور ان کی آخری خواہش یہی تھی کہ اسی لباس میں لپیٹ کر ان کو قبر میں اتارا جاوے۔“ 1047 پہلے روایت آچکی ہے کہ آپ نے قصر سعد بنایا تھا تو اس کے تعمیر ہونے پر کسی کے دل میں کوئی خیال بھی ہو ، سوال اٹھتا ہو تو یہی اس کا جواب ہے کہ انہوں نے آخر میں گوشہ نشینی اختیار کی اور پھر جس چیز کو پسند کیا وہ بدر کی جنگ میں پہنا ہو لباس تھا اور اس سے پہلے بھی ان کی جو گوشہ نشینی کی حالت تھی وہی ان کی عاجزی اور سادگی کی دلیل ہے۔شادی اور اولاد حضرت سعد بیان کرتے ہیں کہ جب میں غزوہ بدر میں شامل ہوا تھا تو اس وقت میری صرف ایک بیٹی تھی۔دیگر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حجتہ الوداع کے موقعے پر بھی آپ کی ایک ہی بیٹی تھی۔پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اتنا فضل کیا کہ میری اولاد بہت زیادہ ہو گئی۔حضرت سعد نے مختلف اوقات میں نو شادیاں کیں اور ان سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو چونیتس بچوں سے نوازا جن میں سترہ لڑکے اور سترہ لڑکیاں تھیں۔1048