اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 440 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 440

440 ناب بدر جلد 4 ڈالا اور ان کو اسلامی جھنڈا دیا اور اللہ نے اس روز مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی۔پھر تیسری بات انہوں نے یہ بیان کی کہ جب آیت فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَ ابْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ (آل عمران :62) اس کا ترجمہ یہ ہے کہ تُو کہہ دے کہ آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں اور تم اپنے بیٹوں کو۔ہم اپنی عورتوں کو بلائیں اور تم اپنی عورتوں کو۔جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللی نیلم نے حضرت علی، حضرت فاطمہ اور حضرت حسنؓ اور حضرت حسین کو بلایا اور فرمایا کہ اے اللہ ! یہ میرا اہل وعیال ہے۔یہ ترمذی کی روایت ہے۔اللہ مجھے کبھی عذاب نہیں دے گا۔۔۔! 1036 حضرت سعد بن ابی وقاص کے بیٹے مُصْعَب بن سعد بیان کرتے ہیں کہ میرے والد کی وفات کا وقت آیا تو ان کا سر میری گود میں تھا۔میری آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔انہوں نے مجھے دیکھا اور مجھ سے کہا کہ اے میرے پیارے بیٹے ا تجھے کیا چیز رلاتی ہے۔میں نے عرض کیا آپ کی وفات کا غم اور اس بات کا غم کہ میں آپ کے بعد آپ کا بدل کسی کو نہیں دیکھتا۔اس پر حضرت سعد نے فرمایا مجھ پر مت رو۔اللہ مجھے کبھی عذاب نہیں دے گا اور میں جنتیوں میں سے ہوں۔بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ جی فلاں نے فلاں پروگرام میں کہہ دیا جنتیوں میں سے کس طرح ہو گئے تو یہاں حضرت سعد بھی فرمار ہے ہیں کہ میں جنتیوں میں سے ہوں۔پھر فرمایا کہ اللہ مومنوں کو ان کی نیکیوں کی جزا دیتا ہے جو انہوں نے اللہ کے لیے کیں اور جہاں تک کفار کا معاملہ ہے تو اللہ ان کے اچھے کاموں کی وجہ سے ان کے عذاب کو ہلکا کر دیتا ہے مگر جب وہ اچھے کام ختم ہو جائیں تو دوبارہ عذاب دیتا ہے۔ہر انسان کو اپنے اعمال کی جزا اس سے طلب کرنی چاہیے جس کے لیے اس نے عمل کیا ہو۔17 انصار سے محبت اور حسن سلوک 1037 حضرت سعد بن ابی وقاص کے بیٹے روایت کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ میں دیکھتا ہوں کہ آپ انصار کے گروہ کے ساتھ وہ سلوک کرتے ہیں جو دوسروں کے ساتھ نہیں کرتے تو انہوں نے بھی بیٹے سے پوچھا کہ اے میرے بیٹے ! کیا تمہارے دل میں ان کی طرف سے کچھ ہے ؟ انہوں نے کہا کہ یہ سلوک جو میں انصار سے کرتا ہوں تو کیا تمہارے دل میں کوئی بات ہے ؟ تو میں نے جواب دیا نہیں ن مجھے آپ کے اس معاملے سے تعجب ہوتا ہے۔حضرت سعد نے جواب دیا میں نے رسول اللہ صلی علیکم سے سنا ہے کہ مومن ہی ان کو دوست رکھتا ہے اور منافق ہی ان سے بغض رکھتا ہے۔پس میں اس لیے ان سے تعلق رکھتا ہوں۔8 جریر سے مروی ہے کہ وہ ایک دفعہ حضرت عمر کے پاس سے گزرے تو حضرت عمر نے حضرت سعد بن ابی وقاص کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا میں نے انہیں اس حال میں چھوڑا ہے کہ وہ اپنی حکومت میں باوجو د قدرت کے سب سے شریف انسان ہیں۔سختی میں سب سے کم ہیں۔وہ تو ان 1038