اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 428
اصحاب بدر جلد 4 428 ا کرنے کی وجہ سے بارڈر پہ چڑھائی کی اجازت چاہی۔حضرت ابو بکر نے انہیں اجازت دے دی۔حضرت خالد بن ولید کو ایک بڑی جمعیت کے ساتھ ان کی مدد کے لیے روانہ فرمایا۔جب ملک شام سے حضرت ابو عبید گانے دربارِ خلافت سے کمک طلب کی تو حضرت ابو بکر نے حضرت خالد کو ان کی مدد کے لیے بھجوا دیا۔حضرت خالد بن ولید نے عراق میں حضرت منفی کو اپنا جانشین مقرر کیا لیکن حضرت خالد کے عراق سے جانے کے ساتھ ہی یہ مہم سرد پڑ گئی۔جب حضرت عمرؓ خلیفہ ہوئے تو آپ نے از سر نو عراق کی مہم کی طرف توجہ فرمائی۔حضرت مصلی نے ٹویٹ اور دیگر جنگوں میں دشمنوں کو پے در پے شکست دے کر عراق کے ایک وسیع خطے پر قبضہ کر لیا۔اس وقت عراق کا علاقہ کسری کے زیر نگیں تھا۔ایرانیوں کو جب مسلمانوں کی جنگی قوتوں کا اندازہ ہوا اور ان کی مسلسل فتوحات نے ان کی آنکھیں کھولیں تو انہوں نے پوران دخت جو ان کی ملکہ تھی اس کی بجائے خاندان کسری کے اصلی وارث جو یڈ ڈ گرڈ تھا اس کو تخت نشین کیا۔اس نے تخت پر بیٹھتے ہی ایرانی سلطنت کی تمام طاقتوں کو مجتمع کیا۔تمام ملک میں مسلمانوں کے خلاف جوش و انتقام کی آگ بھڑکائی۔ان حالات میں حضرت منٹی کو مجبوراً عرب کی سرحد سے ہٹنا پڑا۔حضرت عمر کو جب ان واقعات کا علم ہوا تو آپ نے عرب میں پر جوش خطیب ہر طرف پھیلا دیے اور کسری کے خلاف مسلمانوں کو کھڑا ہونے کے لیے کہا۔نتیجہ یہ ہوا کہ عرب میں ایک جوش پیدا ہوا اور ہر طرف سے جاں نثارانِ اسلام ہتھیلی پر جانیں رکھ کر دارالخلافہ کی جانب انڈ آئے۔حضرت عمرؓ نے مشورہ کیا کہ اس مہم کی قیادت کس کے سپرد کی جائے۔عوام کے مشورے سے حضرت عمرؓ خود اس مہم کی قیادت کے لیے تیار ہوئے لیکن حضرت علی اور اکابر صحابہ کی رائے اس میں مانع ہوئی، انہوں نے روک دیا۔اس غرض کے لیے حضرت سعید بن زید کا نام بھی پیش کیا گیا۔اسی اثناء میں حضرت عبد الرحمن بن عوف اٹھے اور عرض کی یا امیر المومنین ! اس مہم کے لیے مجھے صیح آدمی معلوم ہو گیا ہے۔حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ وہ کون ہے ؟ حضرت عبد الرحمن بن عوف نے عرض کیا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص ! اس کے بعد سب لوگوں نے حضرت سعد کے نام پر اتفاق کیا اور حضرت عمرؓ نے حضرت سعد کے بارے میں فرمایا۔إِنَّهُ رَجُلٌ شُجَاعُ رَامٍ یعنی وہ ایک بہت بہادر نڈر اور زبر دست تیر انداز انسان ہے۔حضرت متفی مقام ذی قار ، کوفہ اور واسط کے درمیان ایک جگہ ہے اس میں آٹھ ہزار جاں نثار بہادروں کے ساتھ حضرت سعد کا انتظار کر رہے تھے کہ ان کو خدا کی طرف سے بلاوا آ گیا اور ان کی وفات ہو گئی اور انہوں نے اپنے بھائی حضرت معلمی کو سپہ سالار مقرر کیا۔حضرت معنی نے حسبِ ہدایت حضرت سعد سے ملاقات کی اور حضرت متلی کا پیغام پہنچایا۔حضرت سعد نے اپنی فوج کا جائزہ لیا تو وہ کم و بیش تیس ہزار آدمیوں پر مشتمل لشکر تھا۔آپ نے لشکر کو ترتیب دیا اور لشکر کا جو دایاں حصہ تھا اور بایاں حصہ تھا اس کی تقسیم کر کے ان پر علیحدہ علیحدہ افسر مقرر کیے اور آگے بڑھے اور قادسیہ کا محاصرہ کر لیا۔قادسیہ کا معرکہ 16 / ہجری کے آخر میں پیش آیا۔کفار کی تعداد دو لاکھ اسی ہزار کے قریب تھی اور ان کے لشکر میں تھیں ہاتھی تھے۔ایرانی فوج کی کمان رستم کے ہاتھ میں تھی۔حضرت سعد نے کفار کو اسلام کی دعوت دی اس کے لیے آپ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ کو بھیجا۔رستم نے ان