اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 427 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 427

اصحاب بدر جلد 4 427 اپنی ٹھوڑی ان کے کندھے پر رکھ دی اور فرمایا اے خدا اس کا نشانہ بے خطا کر دے حضرت مصلح موعود حضرت سعد کا شکار کے بارے میں واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول کریم علی ای کم و خود شکار نہیں کیا کرتے تھے مگر حدیثوں سے ثابت ہے کہ آپ شکار کروایا کرتے تھے۔چنانچہ ایک غزوہ میں آپ نے سعد بن ابی وقاص کو بلایا اور فرمایا کہ دیکھو وہ ہرن جا رہا ہے اسے تیر مارو۔جب وہ تیر مارنے لگے تو آپ نے پیار سے اپنی ٹھوڑی ان کے کندھے پر رکھ دی اور فرمایا اے خدا اس کا نشانہ بے خطا کر دے۔10204 فاتح عراق اور مدائن کے محلات حضرت سعد کو اللہ تعالیٰ نے یہ سعادت بھی عطا فرمائی کہ عراق آپ کے ہاتھوں پر فتح ہوا۔غزوہ خندق کے موقعے پر ایک مرتبہ صحابہ کرام آنحضرت صلی علیم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ خندق میں ایک چٹان آگئی ہے جو ٹوٹتی نہیں۔حضور صلی علیہ کی تشریف لے گئے اور تین کرالیں اس چٹان پر ماریں اور ہر بار چٹان کچھ ٹوٹی اور حضور صلی اینکر نے بلند آواز سے اللہ اکبر ! کہا اور آپ کی اتباع میں صحابہ نے بھی نعرہ لگایا۔اس موقع پر ایک ضرب پر آپ نے فرمایا کہ مجھے مدائن کے سفید محلات گرتے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔آپ نے جو دیکھا وہ حضرت سعد کے ہاتھوں پورا ہوا۔1021 عرب کے ماحول میں دو بڑی طاقتیں تھیں۔ایک کسرٹی کی، دوسری قیصر کی۔عراق کا بڑا حصہ کسری کے زیر نگیں تھا اور مدین میں ان کے شاہی محلات تھے۔مدائن، قادسیہ ، نہاوند اور جلولاء کے مشہور معر کے حضرت سعد بن ابی وقاص کے زیر قیادت لڑے گئے۔مدائن کا تعارف یہ ہے کہ عراق میں بغداد سے کچھ فاصلے پر جنوب کی طرف دریائے دجلہ کے کنارے واقع ہے۔چونکہ یہاں یکے بعد دیگرے کئی شہر آباد ہوئے اس لیے عربوں نے اسے مدائن یعنی کئی شہروں کا مجموعہ کہنا شروع کر دیا۔قادسیہ بھی عراق کا ایک شہر تھا جہاں مسلمانوں اور فارسیوں کے درمیان مشہور جنگ لڑی گئی جسے جنگ قادسیہ کہتے ہیں اور موجودہ قادسیہ کا شہر کوفے سے پندرہ فرسخ کے فاصلے پر ہے۔نهاوند: یہ موجودہ ایران میں واقع ایک شہر ہے جو ایرانی صوبہ ہمدان میں اس کے دارالحکومت ہمد ان سے 70 کلو میٹر جنوب میں واقع ہے۔جلولاء موجودہ عراق کا شہر ہے جو دریائے دجله الأئمن کے کنارے واقع ہے۔یہاں مسلمانوں اور فارسیوں کے در میان جنگ لڑی گئی۔اس کا نام جلولاء اس لیے رکھا گیا کہ یہ شہر ایرانیوں کی لاشوں سے بھر گیا تھا۔قادسیہ کا معرکہ اور حضرت سعد کی سپہ سالاری عراق میں حضرت ابو بکر کے زمانے میں حضرت منلی بن حارثہ نے ایرانیوں کے بار بار تنگ