اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 429 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 429

ب بدر جلد 4 429 سے کہا کہ تم لوگ تنگ دست ہو اور تنگدستی کو دور کرنے کے لیے یہ سب کچھ کر رہے ہوں۔ہم تمہیں اتنا دیں گے کہ تم سیر ہو جاؤ گے۔حضرت مغیر گانے جواب میں کہا کہ ہم نے خدا کے رسول صلی علیم کی دعوت پر لبیک کہا۔ہم تمہیں خدائے واحد کی طرف اور اس کے نبی صلی علی کم پر ایمان لانے کی طرف دعوت دیتے ہیں۔اگر تم یہ قبول کر لو تو تمہارے لیے بہتر ہے ورنہ پھر جنگ ہے، تلوار ہے جو ہمارے اور تمہارے میان فیصلہ کرے گی۔اس جواب سے رستم کا چہرہ سخت سرخ ہو گیا کیونکہ ان کی طرف سے پہل ہوئی تھی اور وہ جنگ کرنا چاہتے تھے۔انہوں نے کہا ہم تو ابھی بھی جنگ نہیں کرنا چاہتے ہم تو تمہیں اسلام کی تبلیغ کر رہے ہیں پیغام دے رہے ہیں لیکن تم اگر جنگ چاہتے ہو تو پھر ٹھیک ہے پھر تلوار ہی فیصلہ کرے گی۔بہر حال اس کا چہرہ سرخ ہو گیا۔مشرک تھا۔اس نے کہا سورج اور چاند کی قسم کہ صبح کے طلوع ہونے سے پہلے ہم جنگ کا آغاز کریں گے اور تم سب کو تہ تیغ کر دیں گے۔حضرت مغیرہ نے کہا کہ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللہ کہ ساری طاقتوں کا منبع اور مرکز اللہ تعالیٰ ہی ہے اور یہ کہہ کر وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو گئے۔شاہ ایران کا دربار اور مٹی کے بورے حضرت سعد کو حضرت عمر کا پیغام ملا کہ پہلے ان کو دعوت حق دو۔چنانچہ حضرت سعد نے مشہور شاعر اور شہ سوار حضرت عمر و بن مَعْدِی گرب اور حضرت اشعت بن قیس کندی کو اس وفد کے ساتھ بھیجا۔رستم سے ان کا آمنا سامنا ہوا تو اس نے پوچھا کہ کدھر جا رہے ہو ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ تمہارے والی سے ملنے۔اس پر رستم اور ان کے درمیان تفصیلی گفتگو ہوئی۔وفد کے ممبران نے کہا کہ ہمارے نبی صلی العلیم نے ہم سے وعدہ کیا ہے کہ ہم تمہارے علاقے پر قابض ہوں گے۔اس پر رستم نے مٹی کی ٹوکری منگوائی اور کہالو یہ ہے ہماری زمین۔اسے سر پر اٹھا لو۔حضرت عمرو بن معدی گرب “جلدی سے اٹھے اور مٹی کی ٹوکری اپنی جھولی میں رکھ لی اور چل دیے اور کہا کہ یہ فال ہے کہ ہم غالب ہوں گے اور ان کی زمین ہمارے قبضہ میں آجائے گی۔پھر وہ شاہ ایران کے دربار میں پہنچے اور اسے اسلام کی دعوت دی جس پر وہ سخت ناراض ہوا اور کہا میرے دربار سے چلے جاؤ۔اگر تم پیغامبر نہ ہوتے تو میں تمہیں قتل کروا دیتا۔پھر اس نے رستم کو حکم دیا کہ انہیں نا قابل فراموش سبق سکھایا جائے۔جمعرات کے دن ظہر کے بعد جنگ کا نقارہ بجا۔حضرت سعد نے تین بار اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا اور چوتھے پر جنگ شروع ہو گئی۔حضرت سعد بیمار تھے اور میدانِ جنگ کے قریب قصر عذیب کے بالا خانے میں بیٹھے فوج کو ہدایات دے رہے تھے۔1022 اس واقعہ کو حضرت مصلح موعودؓ نے بھی بیان فرمایا ہے کہ حضرت عمرؓ کے زمانے میں جب خسرو پرویز کے پوتے یزد جز ء کی تخت نشینی کے بعد عراق میں مسلمانوں کے خلاف وسیع پیمانے پر جنگی تیاریاں شروع ہو گئیں تو حضرت عمرؓ نے ان کے مقابلے کے لیے حضرت سعد بن ابی وقاص کی سر کردگی میں ایک لشکر روانہ کیا۔حضرت سعد نے جنگ کے لیے قادسیہ کا میدان منتخب کیا اور حضرت عمر کو اس مقام کا نقشہ