اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 539
ب بدر جلد 4 539 عامر بن ربیعہ بیان کرتے ہیں کہ زید بن عمر و دین کی تلاش میں رہے اور انہوں نے نصرانیت اور یہودیت اور بتوں اور پتھروں کی پرستش سے کراہت کا اظہار کیا اور انہوں نے اپنی قوم سے اختلاف کیا اور ان کے بتوں اور جن کی ان کے آباؤ اجداد عبادت کیا کرتے تھے ان کو چھوڑ دینے کا اظہار کیا۔اور نہ ہی وہ ان کا ذبیحہ کھاتے تھے۔ایک بار انہوں نے مجھے کہا کہ اے عامر ! دیکھو مجھے اپنی قوم سے اختلاف ہے۔میں ابراہیمی ملت کی پیروی کرنے والا ہوں اور جس کی وہ عبادت کیا کرتے تھے یعنی ابراہیم علیہ السلام اور اس کے بعد اسماعیل کی اتباع کرتا ہوں جو اسی قبلے کی طرف نماز پڑھتے تھے اور میں اسماعیل کی نسل سے ایک نبی کا منتظر ہوں لیکن یوں معلوم ہوتا ہے کہ مجھے اس کا زمانہ نصیب نہیں ہو گا کہ اس کی تصدیق کروں اور اس پر ایمان لاؤں اور گواہی دوں کہ وہ سچانبی ہے۔اے عامر ! اگر تم اس نبی کا زمانہ پاؤ تو اسے میر اسلام کہنا۔عامر کہتے ہیں کہ جب آنحضرت صلی علیہ علم کا ظہور ہوا تو میں مسلمان ہو گیا اور حضور صلی علیم کو زید بن عمرو کا پیغام دیا اور سلام عرض کیا۔حضور نے سلام کا جواب دیا اور ان کے لیے رحمت کی دعا کی اور فرمایا میں نے اس کو جنت میں اس طرح دیکھا کہ وہ اپنے دامن کو سمیٹ رہا تھا۔1211 زید بن عمرو کو اپنے موحد ہونے پر نہایت فخر تھا۔حضرت اسماء بنت ابو بکر زمانہ جاہلیت کا ایک واقعہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے زید بن عمر و بن نفیل کو دیکھا کہ کعبے سے اپنی پیٹھ لگائے کھڑے یہ کہہ رہے تھے کہ اے قریش کے لوگو! اللہ کی قسم!! تم میں سے کوئی بھی میرے سوا ابراہیم کے دین پر نہیں ہے۔اور زید بیٹیوں کو زندہ نہیں گاڑتے تھے جو عربوں کے بعض قبیلوں کی رسم تھی کہ بیٹیوں کو زندہ گاڑ دیتے تھے۔وہ نہیں گاڑتے تھے بلکہ جو شخص اپنی بیٹی مارنا چاہتا تھا، ان کو پتالگ جاتا تو وہ اسے کہتے کہ اسے نہ مارو۔اسے نہ مارو۔میں اس کا خرچ اور خوراک تمہاری جگہ مہیا کروں گا۔چنانچہ وہ اس کو لے لیتے۔جب وہ جوان ہو جاتی تو اس کے باپ سے کہتے کہ اگر تم چاہو تو میں اسے تمہارے سپر د کیے دیتا ہوں اور اگر چاہو تو میں اس کے سب کام پورے کر دوں گا۔1212 یعنی شادی وغیرہ کے خرچے بھی پورے کر دوں گا۔ایک دوسری روایت میں حضرت اسماء بنت ابو بکر بیان کرتی ہیں، پہلی روایت بخاری کی تھی اور دوسری اسماءالرجال کی کتاب ” اسد الغابہ “ کی ہے۔حضرت اسماء بنت ابو بکر بیان کرتی ہیں میں نے زید بن عمرو بن نُقیل کو کعبہ سے پیٹھ لگائے ہوئے کھڑے دیکھا۔وہ کہہ رہے تھے کہ اے قریش کے لوگو! اس ذات کی قسم !! جس کے ہاتھ میں زید کی جان ہے کہ میرے سوا تم میں سے کسی نے بھی ابراہیم کے دین پر صبح نہیں کی۔وہ کہا کرتے تھے کہ اے اللہ ! کاش کہ میں تیری عبادت کا پسندیدہ طریق جانتا تو میں اسی طرح تیری عبادت کرتا لیکن میں اس سے واقف نہیں ہوں۔پھر وہ اپنی ہتھیلی پر سجدہ کرتے۔1213 سعید بن مسیب سے مروی ہے کہ زید بن عمرو کی وفات رسول اللہ صلی للی کم کی بعثت سے پانچ سال قبل ہوئی۔اس وقت قریش خانہ کعبہ کی تعمیر کر رہے تھے۔جب وہ فوت ہوئے تو یہ کہہ رہے تھے کہ