اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 538
ناب بدر جلد 4 538 سے انکار کر دیا۔زید نے کہا کہ میں بھی اس سے نہیں کھایا کرتا جو تم اپنے تھانوں میں ذبح کرتے ہو اور میں صرف وہی کھاتا ہوں جس پر اللہ کا نام لیا جائے۔آنحضرت صلی علیہم نے اس احتیاط کے تقاضے کے تحت نہیں کھایا کہ غیر اللہ کے نام پر یہ چیزیں ذبح کی گئی ہیں۔اس پر زید نے بھی کہا کہ میں بھی غیر اللہ کے نام پر ذبح کی ہوئی چیزیں نہیں کھاتا۔اور پھر روایت آگے چلتی ہے کہ زید بن عمر و قریش کی قربانیوں کو معیوب سمجھا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ بکری کو بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور آسمان سے اس کے لیے پانی برسایا اور زمین سے اس کے لیے چارہ اگایا۔پھر تم اس کو اللہ کے سوا اوروں کے نام پر ذبح کرتے ہو۔یعنی اس غیر اللہ کے نام پر ذبح کرنے کو بُرا منایا کرتے تھے اور اس کو بہت بڑا گناہ سمجھتے تھے۔دین حق کی تلاش میں دور دراز ممالک کا سفر زید بن عمر و کفر و شرک سے متنفر ہوئے تو انہوں نے حق کی تلاش میں دور دراز ممالک کا سفر کیا۔اُن کے اس سفر کے متعلق صحیح بخاری کی ایک اور روایت میں یوں بیان ہوا ہے۔حضرت ابن عمر روایت کرتے ہیں کہ زید بن عمر و بن نفیل شام کے ملک کی طرف دین کے متعلق دریافت کرنے کے لیے گئے تاکہ اس کی پیروی کریں۔چنانچہ وہ ایک یہودی عالم سے ملے جس سے انہوں نے اُن کے دین کے متعلق پوچھا۔انہوں نے کہا، یہودی عالم سے پوچھا کہ مجھے بتائیں شاید میں تمہارا دین اختیار کرلوں۔تو اس نے کہا کہ ہمارے مذہب پر نہ ہونا یہ تو بگڑ چکا ہے ورنہ تم بھی غضب الہی سے اپنا حصہ لو گے۔زید نے کہا میں تو اللہ کے غضب سے بھاگ رہا ہوں اور میں تو اللہ کی ناراضگی کو کبھی برداشت نہیں کروں گا اور میں اس کی طاقت کہاں رکھتا ہوں۔پھر انہوں نے پوچھا کہ کیا تم مجھے اس کے علاوہ کسی دین کا پتا دیتے ہو ؟ اس یہودی عالم نے کہا کہ میں تو یہی جانتا ہوں کہ انسان حنیف ہو۔زید نے کہا حنیف کیا ہوتا ہے ؟ اس نے کہا کہ ابراہیم کا دین۔نہ وہ یہودی تھے نہ نصرانی اور وہ صرف اللہ ہی کی پرستش کرتے تھے۔پھر زید وہاں سے نکلے اور نصاریٰ کے ایک عالم سے ملے اس سے بھی یہی ذکر کیا۔اس نے کہا کہ تم ہمارے مذہب پر کبھی نہ ہوناور نہ تم اللہ کی لعنت سے اپنا حصہ لو گے۔زید نے کہا کہ میں اللہ کی لعنت سے بھاگ رہا ہوں اور میں اللہ کی لعنت اور نہ اس کا غضب برداشت کر سکتا ہوں اور مجھے یہ طاقت ہی کہاں ہے۔کیا تم مجھے کسی اور دین کا پتا دیتے ہو ؟ اس نے کہا کہ میں یہی جانتا ہوں کہ انسان حنیف ہو۔زید نے پوچھا یہ حنیف کیا ہوتا ہے ؟ اس نے کہا ابراہیم کا دین۔نہ وہ یہودی تھے نہ نصرانی اور صرف اللہ کی عبادت کرتے تھے۔جب زید نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے متعلق ان کی رائے دیکھی تو وہ وہاں سے نکلے۔جب باہر میدان میں آئے تو انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور کہا اے میرے اللہ ! میں یہ اقرار کرتا ہوں کہ میں حضرت ابراہیم کے دین پر ہوں۔1210 رسول اکرم ما الم کی خدمت میں زید بن عمرو کا سلام زید بن عمرو نے آنحضرت صلی للی کم کا زمانہ پایا مگر آپ کی بعثت سے پہلے وفات پاگئے تھے۔حضرت