اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 540
تاب بدر جلد 4 540 میں دین ابراہیم پر ہوں۔یہ ذکر تو حضرت سعید بن زید کیا ہو رہا تھا۔ان کے والد کا ذکر ضمنا آ گیا اور بیٹے کو بھی اسلام میں جو مقام ملا اور پھر باپ کی جو نیکیاں تھیں اس کی وجہ سے یہ بھی تاریخ میں محفوظ ہو گیا اور اس لیے میں نے یہاں بیان بھی کر دیا کیونکہ یہ روایتیں بخاری میں بھی ملتی ہیں۔بہر حال اب حضرت سعید بن زید کا بقایاذ کر کر تاہوں۔1215 ایک مرتبہ حضرت سعید بن زید اور حضرت عمر بن خطاب رسول اللہ صلی الی علم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے زید بن عمرو کے متعلق دریافت کیا۔یعنی حضرت سعید کے والد کے بارے میں تو رسول اللہ صلی الم نے فرمایا کہ اللہ زید بن عمرو کی مغفرت کرے اور ان پر رحم کرے۔ان کی موت دین ابراہیم پر ہوئی۔اس کے بعد جب بھی مسلمان زید بن عمرو کا ذکر کرتے تو ان کے لیے رحمت اور مغفرت کی دعا کرتے۔1214 ایک دوسری روایت میں ہے کہ جب آنحضرت صلی یی کم سے زید بن عمرو کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایاوہ قیامت کے دن اکیلے ایک امت کے برابر اٹھائے جائیں گے۔سعید بن زید ابتدائی اسلام قبول کرنے والے جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ حضرت سعید بن زید حضرت عمر کے بہنوئی تھے اور حضرت سعید بن زید کی ہمشیرہ عاتکہ بنت زید حضرت عمرؓ کے عقد میں آئی تھیں۔حضرت سعید بن زید اور ان کی بیوی حضرت فاطمہ بنت خطاب اوائل اسلام میں مسلمان ہو گئے تھے ، شروع میں ہی مسلمان ہو گئے تھے۔یہ آنحضرت صلی الم کے دارِ ارقم میں داخل ہونے سے پہلے ایمان لے آئے تھے اور حضرت سعید کی اہلیہ جیسا کہ پہلے بھی میں ذکر کر چکا ہوں حضرت عمرؓ کے اسلام لانے کا سبب بنی تھیں۔1216 حضرت عمر کا قبول اسلام اس کی تفصیل تو پچھلی دفعہ حضرت خباب بن ارت کے ذکر میں بیان ہو چکی ہے لیکن بہر حال یہاں کیونکہ حضرت سعید کا حوالہ بھی ہے اس لیے مختصر آکچھ بیان کر دیتا ہوں۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے سیرت خاتم النبیین میں لکھا ہے کہ حضرت حمزہ کو اسلام لائے ابھی صرف چند دن گزرے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ایک اور خوشی کا موقع دکھایا اور حضرت عمرؓ بھی جو اسلام کے اشد مخالف تھے وہ مسلمان ہو گئے۔حضرت عمر میں سختی کا مادہ تو پہلے ہی تھا۔ان کی فطرت میں ہی تھا لیکن اسلام کی عداوت نے، دشمنی نے اسے اور بھی زیادہ کر دیا تھا۔چنانچہ اسلام سے قبل غریب اور کمزور مسلمانوں کو ان کے اسلام لانے کی وجہ سے بہت زیادہ تکلیف دیا کرتے تھے۔ایک دن انہیں خیال آیا کہ ان کو تو میں تکلیفیں دیتارہتا ہوں لیکن یہ لوگ تو ( پھر بھی) باز نہیں آتے اور اپنے ایمان پر پکے ہیں تو کیوں نہ اس فتنہ کے بانی کو ختم کر دیا جائے۔اس نیت سے