اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 519
تاب بدر جلد 4 519 سوائے دو ضرورت مند آدمیوں کے۔وہ دونوں سھل بن حنیف اور ابو دجانہ تھے اور آنحضرت صلی الہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ کو ابن ابی حقیق یہودی کی تلوار عطا کی اور اس تلوار کی یہودیوں میں بڑی شہرت تھی۔پھر حضرت معاذ کو ایک تلوار دی۔1175 واقعہ افک اور حضرت سعد کا فدائیت کا اظہار رض جب افک کا واقعہ ہوا اور حضرت عائشہ پر الزام لگایا گیا اور آنحضرت صلی یہ کم اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور آپ کے خاندان کو بڑی تکلیف سے گزرنا پڑا اور اسی دوران میں کچھ عرصہ کے بعد آنحضرت صلی الم نے صحابہ کے سامنے ایک موقع پر منافقین کے اس غلط رویے کا ذکر کیا تو اس وقت بھی حضرت سعد بن معاذ نے بے لوث فدائیت کا اظہار فرمایا تھا۔یہ واقعہ بڑی تفصیل سے حضرت مصلح موعودؓ نے بیان فرمایا ہوا ہے جو ایک صحابی حضرت مشطخ کے ذکر میں پہلے میں تفصیل سے بیان کر چکا ہوں۔تاہم حضرت سعد سے متعلقہ حصہ یہاں میں پیش کر دیتا ہوں۔جیسا کہ میں نے کہا ایک روز آنحضرت صلی الم نے اس دوران میں گھر سے باہر تشریف لا کر صحابہ کو جمع کیا اور فرمایا کوئی ہے جو مجھے اس شخص سے بچائے جس نے مجھے دکھ دیا ہے۔اس سے آپ کی مراد عبد اللہ بن ابی بن سلول سے تھی۔حضرت سعد بن معاذ جو اوس قبیلے کے سردار تھے کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! اگر وہ شخص ہم میں سے ہے تو ہم اس کو مارنے کے لیے تیار ہیں اور اگر وہ خزرج میں سے ہے تب بھی اس کو مارنے کے لیے تیار ہیں۔1176 غزوہ خندق اور بنو قریظہ کی غداری غزوہ خندق کے دوران ابو سفیان نے بنو نضیر کے رئیس محینی کو بنو قریظہ کے رئیس کعب بن اسد کے پاس بھیجا کہ مسلمانوں سے کیے گئے معاہدے کو ختم کر دو۔جب وہ نہ مانا تو سبز باغ دکھا کر اور مسلمانوں کی تباہی کا یقین دلا کر مسلمانوں سے کیے گئے معاہدے پر عمل نہ کرنے پر راضی کر لیا بلکہ اس بات پر بھی راضی کر لیا کہ وہ کفارِ مکہ کے مدد گار بن جائیں گے۔اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے سیرت خاتم النبیین میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے لکھا ہے کہ وآ نحضرت صلی اللہ ہم کو جب بنو قریظہ کی اس خطر ناک غداری کا علم ہوا تو آپ نے پہلے تو دو تین دفعہ خفیہ خفیہ زبیر بن العوام کو دریافت حالات کے لیے بھیجا اور پھر باضابطہ طور پر قبیلہ اوس و خزرج کے رئیس سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ اور بعض دوسرے با اثر صحابہ کو ایک وفد کے طور پر بنو قریظہ کی طرف روانہ فرمایا اور ان کو یہ تاکید فرمائی کہ اگر کوئی تشویشناک خبر ہو تو واپس آکر اس کا بر ملا اظہار نہ کریں بلکہ اشارہ کنایہ سے کام لیں تاکہ لوگوں میں تشویش نہ پیدا ہو۔جب یہ لوگ بنو قریظہ کے مساکن میں پہنچے اور ان کے رئیس کعب بن اسد کے پاس گئے تو وہ بد بخت ان کو نہایت مغرورانہ انداز سے ملا اور سعدین کی طرف“ یعنی سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ کی طرف ” سے معاہدہ کا ذکر ہونے پر وہ اور اس