اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 518 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 518

اصحاب بدر جلد 4 518 نہیں، بلکہ سارا کچھ گنوایا اور ظاہر تھا یہ آپ کا فیصلہ تھا۔آپ سر براہ حکومت تھے اور اس میں دوسر دار جو مدینے کے رئیس تھے ان کی رائے بھی شامل تھی جو مسلمان تھے سعد بن معاذ وغیرہ۔قبیلہ بنو نضیر کے اموال غنیمت اور انصار کا مخلصانہ ایثار یہودی قبیلہ بنو نضیر نے آنحضرت صلی نیلم کو ایک پتھر گرا کر دھوکے سے ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایا۔اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی آنحضرت صلی للہ ہم کو اس کی خبر دی۔آنحضرت صلی الم صحابہ کے ہمراہ اس قبیلہ کی طرف گئے ہوئے تھے آپ صلی علیہ یکم فور اواپس مدینہ تشریف لے آئے۔بعد میں آنحضرت صلی الله یم نے اس قبیلے کے محاصرے کا حکم دیا۔ربیع الاول چار ہجری میں آنحضرت صلی اللی کم کو خود حفاظتی کے خیال سے مجبور ہو کر بنو نضیر کے خلاف فوج کشی کرنی پڑی جس کے نتیجہ میں بالآخر یہ قبیلہ مدینہ سے جلا وطن ہو گیا۔جب رسول اللہ صلی علی نکم کو غزوہ بنو نضیر کا اموال غنیمت ملا تو آپ نے حضرت ثابت بن قیس کو بلا کر فرمایا کہ میرے لیے اپنی قوم کو بلاؤ۔حضرت ثابت نے عرض کیا یار سول اللہ صلی ال کی کیا خزرج کو ؟ آپ نے فرمایا تمام انصار کو بلا لو کسی بھی قبیلے کے ہوں۔چنانچہ انہوں نے اوس اور خزرج کو آپ صلی علیم کے لیے بلایا۔رسول اللہ صلی الم نے ان سے خطاب کیا۔آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی جس کا وہ اہل ہے۔پھر انصار کے مہاجرین پر کیے جانے والے احسانوں یعنی انصار کے مہاجرین کو اپنے گھر میں ٹھہرانے اور انصار کے مہاجرین کو اپنی جانوں پر ترجیح دینے کا ذکر فرمایا کہ کس طرح انصار نے مہاجرین پر احسان کیا ہے۔پھر آپ نے فرمایا اگر تم پسند کرو تو میں بنو نضیر سے حاصل ہونے والا مال کے تم میں اور مہاجرین میں تقسیم کر دوں۔مہاجرین حسب سابق تمہارے گھروں میں اور اموال میں رہیں گے۔غنیمت کا جو مال ملا ہے آدھا آدھا تقسیم کر لو لیکن اس کا یہ ہے کہ جس طرح وہ پہلے تمہارے گھروں میں رہ رہے ہیں اور جو تم ان سے احسان کا سلوک کر رہے ہو وہ کرتے رہو۔پال یہ آدھا آدھا لے لو۔لیکن دوسری صورت کیا ہے کہ اگر تم پسند کرو تو یہ اموال میں مہاجرین میں تقسیم کر دیتا ہوں۔انصار کو کچھ نہیں دیتا۔سارا مال جو ملا ہے وہ مہاجرین میں تقسیم کر دیتا ہوں پھر وہ تمہارے گھروں سے نکل جائیں گے۔پھر تمہارے گھروں میں نہیں رہیں گے۔اپنا اپنا انتظام کریں کیونکہ اب ان کو مال مل گیا ہے۔اس پر حضرت سعد بن عبادہ اور حضرت سعد بن معاذ نے آپس میں بات کی۔دونوں نے مشورہ کیا اور دونوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی الی یکم آپ یہ اموال مہاجرین میں تقسیم فرما دیں۔مہاجرین میں مال تقسیم کر دیں لیکن ساتھ یہ بھی کہا کہ وہ حسب سابق ہمارے گھروں میں رہیں گے۔ہم یہ نہیں چاہتے کہ مال لینے کے بعد وہ ہمارے گھروں سے نکل جائیں۔جو جس طرح ہمارے گھروں میں رہ رہے ہیں اور جس طرح مواخات کا وہ سلسلہ قائم ہے اب بھی وہی قائم رہے گا۔اور انصار نے عرض کیا یارسول اللہ صلیل لی کہ ہم راضی ہیں اور ہمارا سر تسلیم خم ہے۔اگر سارا مال آپ مہاجرین میں تقسیم کر دیں تو اس بات پر کوئی ہمیں شکوہ نہیں۔اس پر رسول اللہ صلی علی ایم نے فرمایا اے اللہ ! انصار پر رحم فرما اور انصار کے بیٹوں پر رحم فرما۔پھر رسول اللہ صلی للی تم نے مال کے مہاجرین میں تقسیم فرما دیا اور انصار میں سے کسی کو بھی اس میں سے کچھ نہیں دیا