اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 443 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 443

443 132 صحاب بدر جلد 4 حضرت سعد بن خوله حضرت سعد بن خولہ ایک صحابی تھے اور بعض کے نزدیک آپ ابن ابی رُهم بن عبدالعزی عامری کے آزاد کردہ غلام تھے۔آپ اسلام لائے اور سابقین میں آپ کا شمار ہو تا ہے۔حبشہ اور مدینہ کی طرف ہجرت کرنے والے آپ حبشہ کی طرف دوسری مرتبہ ہجرت کرنے والوں میں شامل تھے۔حضرت سعد بن خولہ نے جب مکہ سے مدینہ ہجرت کی تو آپ نے حضرت كلتوم بن ھدم کے ہاں قیام کیا۔ابن اسحاق موسیٰ بن عقبہ نے آپ کا ذکر اہل بدر میں کیا ہے۔حضرت سعد بن خولہ جب غزوہ بدر میں شامل ہوئے تو اس وقت آپ کی عمر 25 برس تھی۔آپ غزوہ احد، غزوہ خندق اور صلح حدیبیہ میں شامل تھے۔حضرت سعد حضرت شبیعہ اسلمیہ کے شوہر تھے۔آپ کی وفات حجتہ الوداع کے موقع پر ہوئی۔رض عدت وضع حمل 1049 1050 آپ کی وفات کے کچھ عرصہ بعد آپ کے بچہ کی پیدائش ہوئی تو آنحضرت صلی لی کر نے آپ کی اہلیہ سے فرمایا کہ تم اب اس پیدائش کے بعد جس سے چاہو نکاح کر سکتی ہو۔آپ کے حجتہ الوداع کے موقع پر فوت ہونے کے بارے میں سوائے طبری کے کسی نے اختلاف نہیں کیا۔ان کے نزدیک ان کی وفات پہلے ہوئی تھی۔19 آپ کا تعلق قبیلہ بنو مالک بن حسل بن عامر بن لوئی سے تھا۔بعض کے نزدیک آپ بنو عامر کے حلیف تھے۔آپ اہل فارس میں سے ہیں جو کہ یمن میں آکر آباد ہوئے۔عامر بن سعد اپنے والد سعد بن ابی وقاص سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر میری اس بیماری میں عیادت فرمائی جس میں میں موت کے کنارے پر پہنچ گیا تھا۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میری تکلیف جس حد تک پہنچ چکی ہے وہ آپ دیکھ رہے ہیں۔میں مالدار ہوں اور میر اوارث سوائے میری اکلوتی بیٹی کے کوئی نہیں ہے۔کیا میں دو تہائی مال صدقہ کر دوں ؟ آپ نے فرمایا نہیں۔وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا: کیا میں اس کا نصف صدقہ کر دوں ؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔تیسر احصہ کر دو اور تیسر احصہ بھی بہت ہے۔پھر فرمایا کہ