اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 444 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 444

تاب بدر جلد 4 444 تمہارا اپنے وارثوں کو اچھی حالت میں چھوڑنا انہیں محتاج چھوڑنے سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلاتے پھریں اور تم اللہ کی رضا چاہتے ہوئے جو بھی خرچ کرو گے تمہیں اس کا اجر دیا جائے گا یہاں تک کہ ایک لقمہ بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو اس کا بھی اجر ہے۔وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا میں اپنے ساتھیوں سے پیچھے چھوڑا جاؤں گا؟ یہاں فوت ہو جاؤں گا میں ؟ آپ نے فرمایا تم پیچھے چھوڑے نہ جاؤ گے مگر جو نیک عمل کرو گے جس کے ذریعہ تم اللہ کی رضا چاہو تو تم اس کے ذریعہ درجہ اور رفعت میں زیادہ ہو گے اور بعید نہیں کہ تم پیچھے چھوڑے جاؤ۔یعنی لمبی عمر دیے جاؤ گے یہاں تک کہ قومیں تجھ سے فائدہ اٹھائیں اور کچھ دوسری نقصان بھی اٹھائیں۔پھر فرمایا کہ اے اللہ ! میرے اصحاب کی ہجرت پوری فرما اور انہیں ان کی ایڑھیوں کے بل نہ لوٹانا۔لیکن بیچارہ سعد بن خولہ۔راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دکھ کا اظہار فرمایا کیونکہ وہ ہجرت کے بعد مکے میں فوت ہو گئے تھے۔ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سعد بن خولہ کے لیے افسوس کرتے تھے کہ وہ سکے میں مر گئے۔یہ اس لیے کہ جس نے مکے سے ہجرت کی اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نا پسند کرتے تھے کہ وہ وہاں واپس آئے یا اس میں حج اور عمرہ ادا کرنے سے زیادہ قیام کرے۔اسماعیل بن محمد بن سعد سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سائب بن عمیر القاری کو حکم فرمایا کہ اگر سعد بن خولہ مکہ میں وفات پا جائیں تو انہیں مکے میں دفن نہ کیا جائے۔اور ایک روایت کے مطابق حضرت سعد بن ابی وقاص کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے 1051 1052 فرمایا کہ اگر یہ مکے میں وفات پا جائیں تو انہیں مکے میں دفن نہ کیا جائے۔1053 حضرت سعد بن خولہ جب حجتہ الوداع کے موقع پر فوت ہوئے تو ان کی زوجہ حاملہ تھیں۔ان کی وفات پر زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ ان کا وضع حمل ہو گیا۔بچے کی پیدائش ہونے والی تھی۔وفات سے کچھ عرصہ کے بعد بچہ کی پیدائش ہو گئی۔روایات میں آتا ہے کہ چھپیں راتوں یا اس سے بھی کم وقت کے بعد وضع حمل ہو گیا۔جب وہ نفاس سے فارغ ہو ئیں تو انہوں نے نکاح کا پیغام دینے والوں کے لیے سنگھار کیا۔ان کے پاس ابو سنابل بن بتلک جو بنی عبد الدار کے ایک شخص تھے آئے۔بغلک نے ان سے کہا کہ کیا بات ہے میں تمہیں بنا سنورا دیکھتا ہوں۔شاید تمہارا ارادہ نکاح کرنے کا ہے۔اللہ کی قسم ! تم نکاح نہیں کر سکتی جب تک تم پر چار ماہ دس دن نہ گزر جائیں۔سییعہ کہتی ہیں جب اس نے مجھ سے یہ کہا تو میں نے شام کے وقت کپڑے پہنے اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ سے اس بارے میں پوچھا۔آپ نے مجھے فتویٰ دیا کہ جب میں نے وضع حمل کیا تو حلال ہو گئی اور مجھے ارشاد فرمایا کہ اگر میں چاہوں تو شادی کر سکتی ہوں۔1054 بعض مسائل کا بھی ان سے پتا لگ جاتا ہے۔1055