اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 394 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 394

اصحاب بدر جلد 4 394 کالشکر مجرف مقام سے مدینہ واپس آگیا اور حضرت بریدہ نے حضرت اسامہ کا جھنڈ ارسول اللہ صلی علی ایم کے دروازے پر گاڑ دیا۔جب حضرت ابو بکر کی بیعت کرلی گئی تو حضرت ابو بکر نے حضرت بریدہ کو حکم دیا کہ جھنڈا لے کر اسامہ کے گھر جاؤ کہ وہ اپنے مقصد کے لیے روانہ ہو۔یہ لشکر جو آنحضرت صلی علیہ ہم نے تیار کیا تھا اب اس کو لے کر جاؤ۔حضرت بریدہ جھنڈے کو لے کر لشکر کی پہلی جگہ پر لے گئے۔حضرت ابو بکر کی بے مثال بہادری اور لشکر اسامہ کی روانگی آنحضرت صلی علیم کی وفات کے بعد تمام عرب میں خواہ کوئی عام آدمی تھا یا خاص تقریباً ہر قبیلے میں فتنہ ارتداد پھیل چکا تھا اور ان میں نفاق ظاہر ہو گیا تھا۔اس وقت یہود و نصاری نے اپنی آنکھیں پھیلائیں اور بڑے خوش تھے کہ اب دیکھیں کیا ہوتا ہے اور بدلے لینے کی تیاریاں بھی کر رہے تھے اور نبی کریم ملی لی ایم کی وفات اور مسلمانوں کی کمی تعداد کے باعث ان مسلمانوں کی حالت ایک طوفانی رات میں بکرے کی مانند تھی، بہت مشکل حالت میں تھے۔بڑے بڑے صحابہ نے حضرت ابو بکر سے عرض کیا کہ حالات کی نزاکت کے پیش نظر فی الحال لشکر اسامہ کی روانگی متاخر کر دیں، ذرالیٹ کر دیں، کچھ عرصہ کے بعد چلے جائیں تو حضرت ابو بکر نہ مانے اور فرمایا کہ اگر درندے مجھے گھسیٹتے پھریں تو بھی میں اس لشکر کو رسول اللہ صلی اللی کم کے فیصلہ کے مطابق بھجوا کر رہوں گا اور میں رسول اللہ صلی الی یوم کا جاری فرمودہ فیصلہ نافذ کر کے رہوں گا۔ہاں اگر بستیوں میں میرے سوا کوئی بھی نہ رہے تو بھی میں اس فیصلے کو نافذ کروں گا۔بہر حال آپ نے آنحضرت صلی علیم کے حکم کو کما حقہ قائم رکھا اور نافذ فرمایا اور جو صحابہ حضرت اسامہ کے لشکر میں شامل تھے انہیں واپس جذف جا کر لشکر میں شامل ہونے کا ارشاد فرمایا۔حضرت ابو بکر نے فرمایا کہ ہر وہ شخص جو پہلے اسامہ کے لشکر میں شامل تھا اور اسے رسول اللہ صلی للی یکم نے اس میں شامل ہونے کا ارشاد فرمایا تھا وہ ہر گز پیچھے نہ رہے اور نہ ہی میں اسے پیچھے رہنے کی اجازت دوں گا۔اسے خواہ پیدل بھی جانا پڑے وہ ضرور ساتھ جائے گا۔بہر حال لشکر ایک بار پھر تیار ہو گیا۔بعض صحابہ نے حالات کی نزاکت کے باعث پھر مشورہ دیا کہ فی الحال اس لشکر کو روک لیا جائے۔ایک روایت کے مطابق حضرت اسامہ نے حضرت عمرؓ سے کہا کہ آپ حضرت ابو بکر کے پاس جا کر ان سے کہیں کہ وہ لشکر کی روانگی کا حکم منسوخ کر دیں تاکہ ہم مرتدین کے خلاف نبرد آزما ہوں اور خلیفہ کر سول اور حرم رسول اور مسلمانوں کو مشرکین کے حملے سے محفوظ رکھیں۔اس کے علاوہ بعض انصار صحابہ نے حضرت عمرؓ سے کہا کہ خلیفہ رسول اللہ صلی ا کی حضرت ابو بکر اگر لشکر کو روانہ کرنے پر ہی مصر ہیں اگر یہی اصرار ہے تو ان سے یہ درخواست کریں کہ وہ کسی ایسے شخص کو لشکر کا سردار مقرر کر دیں جو عمر میں اسامہ سے بڑا ہو۔لوگوں کی یہ رائے لے کر حضرت عمر حضرت ابو بکر کے پاس حاضر ہوئے تو حضرت ابو بکر نے پھر اسی آہنی عزم کے ساتھ ارشاد فرمایا کہ اگر جنگل کے درندے مدینہ میں داخل ہو کر مجھے اٹھالے جائیں تو بھی وہ کام کرنے سے باز نہیں آؤں گا جسے