اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 393
تاب بدر جلد 4 393 تین میل کے فاصلے پر ایک جگہ ہے۔اس لشکر کی تعداد تین ہزار بیان کی جاتی ہے۔اس لشکر میں مہاجرین اور انصار میں سے سب شامل ہوئے۔ان میں حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ، حضرت ابو عبیدہ بن الجرائح، حضرت سعد بن ابی وقاص جیسے جلیل القدر صحابہ اور کبار صحابہ بھی شامل تھے لیکن ان کے لشکر کے سردار حضرت اسامہ کو مقرر فرمایا جو سترہ اٹھارہ سال کی عمر کے تھے۔کچھ لوگوں نے حضرت اسامہ پر اعتراض کیا کہ یہ لڑکا اتنی چھوٹی عمر میں اولین مہاجرین پر امیر بنا دیا ہے۔اس پر رسول کریم صلی علی کی سخت ناراض ہوئے۔آپ نے اپنے سر کو ایک رومال سے باندھا ہو ا تھا اور آپ ایک چادر اوڑھے ہوئے تھے۔آپ منبر پر چڑھے اور فرمایا کہ اے لوگو ! یہ کیسی بات ہے جو تم میں سے بعض کی طرف سے اسامہ کی امارت کے بارے میں مجھے پہنچی ہے۔اگر میرے اسامہ کو امیر بنانے پر تم نے اعتراض کیا ہے تو اس سے پہلے اس کے باپ کو میرے امیر مقرر کرنے پر بھی تم اعتراض کر چکے ہو۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ خدا کی قسم وہ بھی اپنے اندر امارت کے اوصاف رکھتا تھا یعنی حضرت زید بن حارثہ اور اس کے بعد اس کا بیٹا بھی اپنے اندر امارت کے خواص رکھتا ہے۔وہ ان لوگوں میں سے تھا جو مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں اور یہ دونوں یقیناً ہر خیر کے حق دار ہیں۔پھر آپ نے فرمایا پس اس یعنی اسامہ کے لیے خیر کی نصیحت پکڑو کیونکہ یہ تم میں سے بہترین لوگوں میں سے ہے۔یہ دس ربیع الاول ہفتہ کا دن تھا یعنی آنحضرت صلی علیہ سلم کی وفات سے دو دن پہلے کی بات ہے۔وہ مسلمان جو حضرت اسامہ کے ساتھ روانہ ہو رہے تھے وہ رسول اللہ صلی املی کام کو وداع کر کے جزف کے مقام پر لشکر میں شامل ہونے کے لیے چلے جاتے۔رسول اللہ صلی علیکم کی بیماری بڑھ گئی لیکن آپ صلی للی نام تاکید فرماتے تھے کہ لشکر اسامہ کو بھجواؤ۔اتوار کے دن رسول اللہ صلی علی کمر کا درد اور زیادہ ہو گیا اور حضرت اسامہ لشکر میں واپس آئے تو آپ بیہوشی کی حالت نیم میں تھے۔اس روز لوگوں نے آپ کو دوا پلائی تھی۔حضرت اسامہ نے سر جھکا کر رسول اللہ صلی علیم کو بوسہ دیا۔آپ صلی ا کر بول نہیں سکتے تھے لیکن آپ مصلی میں کم اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھاتے اور حضرت اسامہ کے سر پر رکھ دیتے تھے۔حضرت اسامہ کہتے ہیں کہ میں نے سمجھ لیا کہ آپ صلی اللی کرم میرے لیے دعا کر رہے ہیں۔حضرت اسامہ لشکر کی طرف واپس آئے۔سوموار کو رسول اللہ صلی الم کو افاقہ ہو گیا۔لشکر اسامہ کی روانگی اور توقف آپ صلی علیم نے اسامہ سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی برکت سے روانہ ہو جاؤ۔حضرت اسامہ آنحضرت صلی علیکم سے رخصت ہو کر روانہ ہوئے اور لوگوں کو چلنے کا حکم دیا۔اسی اثنا میں ان کی والدہ حضرت آید ایمن کی طرف سے ایک شخص یہ پیغام لے کر آیا کہ آنحضرت صلی علیم کا آخری وقت دکھائی دے رہا ہے، طبیعت بہت زیادہ یہ خراب ہو چکی ہے۔یہ اندوہناک خبر سنتے ہی حضرت اسامہ حضرت عمرؓ اور حضرت ابو عبیدہ کے ساتھ رسول اللہ صلی علیکم کے پاس حاضر ہوئے۔واپس آگئے تو دیکھا کہ آپ پر نزع کی حالت تھی۔12 ربیع الاول کو پیر کے دن سورج ڈھلنے کے بعد آپ صلی للی یکم نے وفات پائی جس کی وجہ سے مسلمانوں