اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 395
اصحاب بدر جلد 4 395 رسول اللہ صلی ال یکم نے کرنے کا حکم دیا ہے۔اس کے بعد حضرت عمرؓ نے بعض انصار کا پیغام دیا تو وہ سنتے ہی حضرت ابو بکر نے جلال سے فرمایا کہ اسے یعنی اسامہ کو رسول اللہ صلی علیم نے امیر مقرر فرمایا ہے اور تم مجھ سے کہتے ہو کہ میں اسے اس عہدے سے ہٹا دوں۔حضرت ابو بکر کا حتمی فیصلہ سننے اور آپ کے آہنی عزم کو دیکھنے کے بعد حضرت عمر الشکر والوں کے پاس پہنچے۔جب لوگوں نے پوچھا کہ کیا ہوا تو حضرت عمرؓ نے بڑے غصہ سے کہا کہ میرے پاس سے فوراً چلے جاؤ۔محض تم لوگوں کی وجہ سے مجھے آج خلیفہ رسول صلی املی کام سے ڈانٹ کھانی پڑی ہے۔جب حضرت ابو بکر کے حکم کے مطابق جیش اسامہ حزف کے مقام پر اکٹھا ہو گیا تو حضرت ابو بکر خود وہاں تشریف لے گئے اور آپ نے وہاں جا کر لشکر کا جائزہ لیا اور اس کو ترتیب دی اور روانگی کے وقت کا منظر بھی بہت ہی حیرت انگیز تھا۔اس وقت حضرت اسامہ سوار تھے جبکہ حضرت ابو بكر خليفة الرسول پیدل چل رہے تھے۔حضرت اسامہ نے عرض کیا کہ اے رسول اللہ صلی علیم کے خلیفہ آیا تو آپ سوار ہو جائیں یا پھر میں بھی نیچے اترتا ہوں۔اس پر حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا۔بخدا نہ ہی تم نیچے اُتر و گے اور نہ ہی میں سوار ہوں گا اور مجھے کیا ہے کہ میں اپنے دونوں پیر اللہ کی راہ میں ایک گھڑی کے لیے آلود نہ کروں کیونکہ غازی جب قدم اٹھاتا ہے تو اس کے لیے اس کے بدلہ میں سات سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اس کو سات سو درجے بلندی دی جاتی ہے اور اس کی سات سوبر ائیاں ختم کی جاتی ہیں۔حضرت ابو بکر کو مدینہ میں کئی کاموں کے لیے حضرت عمر کی ضرورت تھی۔حضرت ابو بکر نے انہیں از خود روکنے کی بجائے حضرت اسامہ سے اجازت چاہی کہ وہ اگر بہتر سمجھیں تو حضرت عمر کو مدینہ میں حضرت ابو بکر کے پاس رہنے دیں۔حضرت اسامہ نے خلیفہ وقت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے حضرت عمرؓ کو مدینہ میں رہنے کی اجازت دے دی۔اس واقعہ کے بعد حضرت عمر " جب بھی حضرت اسامہ سے ملتے تو آپ کو مخاطب ہو کر کہا کرتے تھے۔السّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْأَمِيرُ کہ اے امیر تم پر سلامتی ہو۔حضرت اسامہ اس کے جواب میں غَفَرَ اللهُ لَكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنین کہتے تھے کہ اے امیر المومنین ! اللہ تعالیٰ آپ سے مغفرت کا سلوک فرمائے۔حضرت ابو بکڑ کی نصیحت اور آداب جنگ بہر حال حضرت ابو بکر نے آخر میں لشکر کو ان الفاظ میں نصیحت فرمائی کہ تم خیانت کے مرتکب نہ ہونا، خیانت نہ کرنا۔تم بد عہدی نہ کرنا۔چوری نہ کرنا اور مثلہ نہ کرنا، جنگ میں مخالفین کے جو لوگ مر جائیں قتل ہو جائیں ان کی شکلیں نہ بگاڑنا۔چھوٹی عمر کے بچے اور بوڑھے اور عورت کو قتل نہ کرنا۔کھجور کے درخت کو نہ کاٹنا اور نہ ہی جلانا۔کسی بھیٹر ، گائے اور اونٹ کو کھانے کے سواذ بح نہ کرنا۔پھر آپ نے فرمایا کہ تم ضرور ایسی قوم کے پاس سے گزرو گے جنہوں نے اپنے آپ کو گر جاؤں میں عبادت کے لیے