اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 333
اصحاب بدر جلد 4 333 بہادر ماں کا بہادر بیٹا ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت زبیر جب بچے تھے تو مکے میں ایک شخص سے لڑائی ہوگئی۔اس شخص نے کوئی سنی کی ہو گی۔یہ چھوٹے تھے وہ بڑا مر د تھا۔بہر حال اس لڑائی میں انہوں نے ان شخص کا ہاتھ توڑ دیا اور سخت چوٹ پہنچائی۔بہر حال اس شخص کو سواری پر لاد کر حضرت صفیہ کے پاس لایا گیا کہ دکھائیں۔اس سے کہیں کہ آپ کے بیٹے نے اس کا یہ حال کیا ہے۔حضرت صفیہ نے پوچھا کہ اس کو کیا ہوا ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ حضرت زبیر نے اس سے لڑائی کی۔نہیں بتایا کہ قصور کس کا ہے۔بہر حال لڑائی ہوئی تو حضرت صفیہ نے حضرت زبیر کی اس دلیری پر شعر پڑھتے ہوئے کہا کہ : كَيْفَ رَأَيْتَ زَبْرًا أَ أَقِطَا حَسِبْتَهُ أَمْ تَمْرًا آمْ مُشْبَعِلًا صَقْرًا کہ تم نے زبیر کو کیسا پایا؟ کیا اسے پنیر اور کھجور کی طرح سمجھا ہوا تھا کہ آسانی سے اسے کھا جاؤ گے۔جو چاہو گے اس سے کر لو گے۔وہ تو تیز جھپٹنے والے عقاب کی طرح ہے۔تم نے اس کو تیز جھپٹنے والے عقاب کی طرح پایا ہو گا۔787 حبشہ اور مدینہ کی طرف ہجرت حضرت زبیر حبشہ کی طرف دونوں ہجرتوں میں شریک ہوئے اور جب آپ ہجرت کر کے مدینہ آئے تو حضرت مُنذر بن محمد کے پاس ٹھہرے۔788 ہجرت کے بعد اسلام میں پہلا پیدا ہونے والا بچہ حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا جو حضرت زبیر بن عوام کی بیوی تھیں ان سے مروی ہے کہ جب میں مکے سے ہجرت کر کے روانہ ہوئی تو میں امید سے تھی۔وہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے قبا میں پڑاؤ کیا۔عبد اللہ بن زبیر وہاں پید ا ہوا۔پھر میں اسے لے کر نبی کریم صلی للی کم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔آپ نے اسے اپنی گود میں رکھا۔پھر آپ نے ایک کھجور منگوائی، اسے چبایا۔پھر اس بچے کے منہ میں پہلے لعاب ڈالا۔پہلی چیز جو اس کے پیٹ میں گئی وہ رسول اللہ صلی للی کم کا لعاب مبارک تھا۔پھر آپ نے کھجور چبا کر اس کے منہ میں ڈالی اور اس کے لیے برکت کی دعا کی اور وہ پہلا بچہ تھا جو اسلام میں پیدا ہوا۔789 چھوٹی سی عمر میں نبی اکرم صلی علم کی بیعت کرنا صحیح مسلم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی علی کرم نے حضرت اسماء کے بیٹے کا نام عبد اللہ