اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 334
صحاب بدر جلد 4 334 رکھا تھا۔جب وہ سات یا آٹھ سال کے ہوئے تو نبی کریم صلی کم کی بیعت کے لیے آئے اور انہیں اس بات کا ان کے والد حضرت زبیر نے حکم دیا تھا کہ جاؤ بیعت کرو۔جب رسول اللہ صلی الیم نے انہیں اپنی جانب آتے ہوئے دیکھا تو آپ نے تبسم فرمایا۔آپ مسکرائے اور پھر اس کی بیعت لی۔790 مکہ اور مدینہ میں مواخات رسول اللہ صلی الم نے جب مکے میں مہاجرین کے درمیان مواخات قائم فرمائی تو حضرت زبیر اور حضرت عبد اللہ بن مسعود کے درمیان مواخات قائم فرمائی تھی۔ہجرت مدینہ کے بعد جب مہاجرین کی انصار سے مواخات قائم فرمائی تو حضرت سلمہ بن سلامه ان کے دینی بھائی ٹھہرے۔791 اپنے بیٹوں کے نام شہداء کے نام پر رکھنا حضرت زبیر نے اپنے بیٹوں کے نام شہداء کے نام پر رکھے تھے تاکہ شاید اللہ انہیں شہادت نصیب کرے۔عبد اللہ کا نام عبد اللہ بن جحش کے نام پر۔منذر کا نام منذر بن عمرو کے نام پر۔عروہ کا نام عُمر وہ بن مسعودؓ کے نام پر۔حمزہ کا نام حمزہ بن عبد المطلب کے نام پر۔جعفر کا نام جعفر بن ابو طالب کے نام پر۔مُصْعَب کا نام مصعب بن محمیر کے نام پر۔عبیدہ کا نام عبیدہ بن حارث کے نام پر۔خالد کا نام خالد بن سعید کے نام پر اور عمر و کا نام عمر و بن سعید کے نام پر رکھا۔حضرت عمرو بن سعید جنگ پر موک میں شہید ہوئے تھے۔792 اور یہ پتہ نہیں کس حد تک صحیح ہے۔کیونکہ حضرت عبد اللہ کا جو پیدائش کا وقت ہے تو اگر وہ پہلے بچے تھے تو کس سن میں پیدا ہوئے ؟ اللہ بہتر جانتا ہے۔لیکن اس وقت کسی کی شہادت ہو بھی چکی تھی کہ نہیں لیکن بہر حال ان بزرگ لوگوں کے نام پر انہوں نے یہ نام رکھے۔عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ حضرت زبیر اتنے دراز قد تھے کہ جب آپ سوار ہوتے تو آپ کے پاؤں زمین پر لگتے۔793 حدیث بیان کرنے میں احتیاط کا عالم حضرت عبد اللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد یعنی حضرت زبیر سے پوچھا کہ جس طرح حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ اور دیگر حضرات کو میں حدیث بیان کرتا ہو اسنتاہوں۔بہت ساری روایتیں وہ آنحضرت صلی علیم کے حوالے سے بیان کرتے ہیں۔آپ کو نہیں سنتا اس کی کیا وجہ ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ جب سے میں نے اسلام قبول کیا ہے ، نبی صلی علیم سے کبھی جدا نہیں ہوا لیکن میں نے نبی صل اللہ ہم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص نے جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات منسوب کی اس نے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالیا۔794 اس کا یہ مطلب نہیں کہ باقی جھوٹ منسوب کرتے تھے بلکہ یہ کہ میں اپنے لیے یہی بہتر سمجھتا ہوں