اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 332 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 332

اصحاب بدر جلد 4 332 تھے اور حضرت صفیہ جو حضرت زبیر کی والدہ تھیں انہیں مارتی تھیں یا ڈانٹتی تھیں۔اس وقت حضرت زبیر چھوٹی عمر کے تھے تو نوفل نے ، ان کے چچانے حضرت صفیہ کو کہا کہ کیا اس طرح بچوں کو مارا جاتا ہے، سختی کی جاتی ہے ؟ تم تو ایسے مارتی ہو جیسے اس سے ناراض ہو۔اس پر حضرت صفیہ نے یہ اشعار پڑھے که مَنْ قَالَ إِنِّي أَبْغِضُهُ فَقَدْ كَذَّبْ وَإِنَّمَا أَضْرِبُهُ لِكَيْ يَلَبْ وَيَهْزِمَ الْجَيْشَ وَيَأْتِي بِالسَّلَبْ وَلَا يَكُنْ لِمَالِهِ خَبأَ مُخَبْ يَأْكُلُ فِي الْبَيْتِ مِنْ تَمْرٍ وَ حَبْ کہ جو اس بات کا قائل ہے کہ میں اس سے ناراض ہوں تو وہ جھوٹا ہے۔میں اس پہ اس لیے سختی کرتی ہوں اسے مارتی ہوں تا کہ یہ بہادر بنے اور لشکروں کو شکست دے اور مقتول کا سامان لے کر لوٹے اور اپنے مال کے لیے چھپ کر نہ بیٹھے کہ گھر میں بیٹھا کھجور میں اور اناج کھاتا پھرے۔784 بچوں کو مارنے سے اعتماد میں کمی آتی ہے بہر حال یہ سوچ تھی ان کی اور اس کے مطابق ان کا تربیت کا طریقہ تھا کہ بہادر بنانے کا یہ طریقہ ہے۔ضروری نہیں کہ ہم کہیں کہ یہ بڑا اچھا طریق ہے اور عموماً تو آج کل یہی دیکھا جاتا ہے کہ اس سے اعتماد میں کمی آتی ہے۔بہر حال اس وقت جو سختی تھی اللہ تعالیٰ نے انہیں اس مار کے بد اثرات سے بچایا۔ماں کی مامتا مشہور ہے۔پیار بھی کرتی ہوں گی۔صرف مارتی ہی نہیں ہوں گی۔اور بعد کے واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ واقعی ان میں بہادری اور جرات پیدا ہوئی۔کس وجہ سے ہوئی اللہ بہتر جانتا ہے لیکن بہر حال کوئی منفی اثر بچپن کی اس مار کا ان پہ نہیں ہوا۔یہاں اگر آج کل کسی نے آزمانے کی کوشش کی تو یہاں تو سوشل سروس والے فوراً آجائیں گے اور بچوں کو لے جائیں گے۔اس لیے مائیں کہیں یہ طریقہ آزمانے کی کوشش نہ کریں۔قبول اسلام پر سخت تکالیف کا سامنا 785 جب حضرت زبیر نے اسلام قبول کر لیا تو آپ کے چچا آپ کو ایک چٹائی میں لپیٹ کر دھواں دیتے تھے تا کہ وہ اسلام چھوڑ کر کفر میں لوٹ جائیں مگر آپ یہی کہتے تھے کہ اب میں کفر میں نہیں لوٹوں گا۔حضرت مصلح موعودؓ نے ان کے بارے میں اس واقعے کو اس طرح بیان فرمایا ہے کہ ”زبیر بن عوام ایک بہت بڑے بہادر نوجوان تھے۔اسلام کی فتوحات کے زمانہ میں وہ ایک زبر دست جر نیل ثابت ہوئے۔ان کا چھا بھی ان کو خوب تکلیفیں دیتا تھا۔چٹائی میں لپیٹ دیتا تھا اور نیچے سے دھواں دیتا تھا تا کہ ان کا سانس رک جائے اور پھر کہتا تھا کہ کیا اب بھی اسلام سے باز آؤ گے یا نہیں ؟ مگر وہ ان تکالیف کو برداشت کرتے اور جواب میں یہی کہتے کہ میں صداقت کو پہچان کر اس سے انکار نہیں کر سکتا۔786