اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 330
تاب بدر جلد 4 اللہ کے حضور تم بہت قیمتی ہو 780 330 حضرت زاهر معمولی شکل وصورت کے مالک تھے۔ایک دن ایسا ہوا کہ حضرت زَاهِر “بازار میں اپنا کچھ سامان فروخت کر رہے تھے کہ نبی کر یم ملی لیک ان کے پاس تشریف لائے اور پیچھے سے انہیں اپنے سینے سے لگالیا۔ایک روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی العلیم نے پیچھے سے آکر ان کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا۔حضرت ڏاھر حضور کو دیکھ نہیں پارہے تھے۔انہوں نے پوچھا کون ہے ؟ مجھے چھوڑ دو لیکن جب انہوں نے مڑ کر دیکھا تو آنحضرت صلی علی ایم کو پہچان لیا۔جب حضرت زَاهِر نے آپ کو پہچان لیا، ذرا سا مٹر کے دیکھا تو جھلک نظر آگئی ہو گی۔پہچاننے کا یہ مطلب ہے کہ ذرا سا مڑ کے دیکھا تو احساس ہوا کہ آنحضرت صلی لی ہم ہی ہیں تو اپنی کمر نبی کریم صلی علی ایم کے سینہ مبارک سے ملنے لگے۔آنحضرت صلی یہ ہم نے مزاحا کہنا شروع کر دیا کہ کون اس غلام کو خریدے گا۔حضرت ذاھد نے عرض کیا کہ یارسول اللہ تب تو آپ مجھے گھاٹے کا سودا پائیں گے۔مجھے کس نے خریدنا ہے؟ اس پر نبی کریم صلی علی کرم نے فرمایا۔اللہ کے نزدیک تم گھاٹے کا سودا نہیں ہو۔یا فرمایا کہ اللہ کے حضور تم بہت قیمتی ہو۔10 حضرت مصلح موعود نے بھی نبی کریم ملی ایم کی دلداری کا یہی واقعہ ایک جگہ بیان فرمایا۔آپ فرماتے ہیں کہ : " اسی طرح ایک دفعہ رسول کریم صلی علی کم بازار میں تشریف لے جارہے تھے کہ آپ نے دیکھا کہ ایک غریب صحابی جو اتفاقی طور پر بد صورت بھی تھے سخت گرمی کے موسم میں اسباب اٹھا رہے ہیں اور ان کا تمام جسم پسینہ اور گردو غبار سے اٹا ہوا ہے۔رسول کریم صلی لیلی کی خاموشی سے ان کے پیچھے چلے گئے اور جس طرح بچے کھیل میں چوری چھپے دوسرے کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر کہتے ہیں اور پھر چاہتے ہیں کہ وہ اندازہ سے بتائے کہ کس نے اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھا ہے اسی طرح رسول کریم صلی اللہ ہم نے خاموشی سے اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیئے۔اس نے آپ کے ملائم ہاتھوں کو ٹول کر سمجھ لیا کہ یہ رسول کریم صلی علیم ہیں تو محبت کے جوش میں اس نے اپنا پسینہ سے بھرا ہوا جسم رسول کریم صلی الم کے لباس کے ساتھ ملنا شروع کر دیا۔رسول کریم صلی علیکم مسکراتے رہے اور آخر آپ نے فرمایا۔میرے پاس ایک غلام ہے کیا اس کا کوئی خریدار ہے ؟ اس نے کہا یار سول اللہ ! میر اخریدار دنیا میں کون ہو سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا ایسا مت کہو۔خدا کے حضور تمہاری بڑی قیمت ہے۔عجیب قسم کی محبتوں کا فیض پانے والے خوش نصیب 781" بس عجیب قسم کی محبتوں کے فیض پائے ان لوگوں نے۔آنحضرت صلی یم نے ایک موقع پر فرمایا كانَ لِكُلِّ حَاضِرَةِ بَادِيَةٌ وَبَادِيَةُ الِ مُحَمَّدٍ زَاهِرُ بْنُ الْحَرَامِ یعنی ہر شہری کا کوئی نہ کوئی دیہاتی تعلق دار ہوتا ہے اور آل محمد کے دیہاتی تعلق دار زاھر بن حرام ہیں۔زاھر بن حرام بعد میں کوفہ منتقل ہو گئے تھے۔782