اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 16
بدر جلد 4 16 تھے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے ہر وقت بے چین رہتے تھے بلکہ اس کے بھوکے تھے۔قرضدار کا قرض معاف کر دینا کہ حضرت ابو اليسر روایت کرتے ہیں کہ بنو حرام کے فلاں بن فلاں کے ذمہ میر امال تھا۔میں نے کچھ پیسے اسے دئے تھے۔اس نے مجھے قرض دینا تھا۔اس کے ذمہ قرضہ تھا۔میں اس کے ہاں گیا۔میں نے سلام کیا اور پوچھا کہ وہ کہاں ہے تو انہوں نے کہا کہ وہ یہاں گھر میں ہے ؟ گھر سے جواب ملا کہ نہیں۔کہتے ہیں کہ پھر اس کا بیٹا جو بلوغت کے قریب تھا۔ابھی بالغ نہیں ہو اتھا۔وہ بیٹا میرے پاس آیا۔میں نے اس سے پوچھا کہ تمہارا باپ کہاں ہے ؟ اس نے کہا کہ اس نے آپ کی آواز سنی اور میری ماں کے چھپر کھٹ میں کھس گیا، وہ آپ کی آواز سن کر پلنگ کے پیچھے چھپ گیا۔تو میں نے کہا میرے پاس باہر آؤ۔پھر میں نے آواز دی کیونکہ مجھے پتہ چل گیا ہے کہ تو کہاں ہے، اس گھر والے مقروض کو کہا کہ باہر آجاؤ مجھے پتہ ہے تم کہاں ہو۔ابو الیسر کہتے ہیں کہ چنانچہ وہ باہر آیا۔میں نے کہا کہ تم کیوں مجھ سے چھپے تھے ؟ اس نے کہا کہ اللہ کی قسم ! میں تمہیں بتاتا ہوں اور تم سے جھوٹ نہیں بولوں گا۔اللہ کی قسم ! میں ڈرا کہ تمہیں بتاؤں اور تم سے جھوٹ بولوں اور تم سے وعدہ کروں اور پھر وعدہ خلافی کروں کہ پھر میں آؤں، جھوٹ بول کے کہوں کہ اچھا میں فلاں دن تمہاری یا فلاں وقت تمہاری رقم دے دوں گا لیکن وعدہ پورا نہ کر سکوں اور جھوٹ بولوں۔پھر کہنے لگا کہ آپ تو رسول اللہ صلی علیم کے صحابی ہیں اور اللہ کی قسم میں محتاج ہوں۔ابو الیسر کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ اللہ کی قسم ؟ یعنی سوال کیا اس سے کہ تم اللہ تعالیٰ کی قسم کھاتے ہو حقیقی طور پر ؟ اس نے کہا ہاں اللہ کی قسم۔میں نے کہا اللہ کی قسم ؟ پھر میں نے اس سے پوچھا کہ تم اللہ کی قسم کھا کر مجھے یہ بات کہہ رہے ہو کہ تم محتاج ہو ؟ اس نے کہا ہاں اللہ کی قسم۔میں نے پھر کہا، تیسری دفعہ کہ اللہ کی قسم ؟ اس نے کہا ہاں اللہ کی قسم۔کہتے ہیں کہ حضرت ابو الیسر اس وقت اپنی تحریر لے کر آئے اور اپنے ہاتھ سے اسے مٹادیا جو لکھی ہوئی تھی۔قرضہ واپس دینے کی تحریر تھی اسے مٹادیا اور کہا کہ اگر تمہیں ادائیگی کی توفیق ملے تو مجھے ادا کر دیناور نہ تم آزاد ہو۔کہتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں میری ان دو آنکھوں کی بصارت یعنی اپنی دونوں انگلیاں اپنی آنکھوں پر رکھیں اور میرے ان دوکانوں کی شنوائی اور میرے دل نے اس بات کو یاد رکھا ہے اور انہوں نے دل کی جگہ کی طرف اشارہ کیا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اس وقت رسول اللہ صلی علیم کو دیکھ رہا ہوں، جب یہ تحریر مٹائی اور آزاد کیا تو کہتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں اپنی آنکھوں سے، اپنے کانوں سے ، اپنے دل سے کہ میں رسول للہ کی یکم کو دیکھ رہا ہوں اور آپ فرما رہے تھے کہ جس نے کسی تنگدست کو مہلت دی یا اس کا تمام مالی بوجھ اتار دیا اللہ تعالیٰ اسے اپنے سائے میں جگہ دے گا۔52 تو میں نے تمہارا بوجھ اتار دیا کیونکہ مجھے اللہ تعالیٰ کے سائے کی تلاش ہے۔یہ ایک اور مثال ہے اللہ