اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 15 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 15

اصحاب بدر جلد 4 15 کہ جو کوئی قتل کرے گا اس کے لئے فلاں فلاں کچھ ہو گا اور اسی طرح جو کوئی اسیر بنائے گا اس کے لئے فلاں فلاں ہو گا۔میں دو قیدی لے کر آیا ہوں۔48 ایک روایت کے مطابق غزوہ بدر میں ابو البختری کو قتل کرنے والے حضرت ابو الیسر تھے۔49 حضرت سلامة بنت معقل بیان کرتی ہیں کہ میں حُباب بن عمرو کی غلامی میں تھی اور ان سے میرے ہاں ایک لڑکا بھی پیدا ہوا تھا۔ان کی وفات پر ان کی بیوی نے مجھے بتایا کہ اب تمہیں محتاب کے قرضوں کے بدلے بیچ دیا جائے گا۔تمہاری حیثیت لونڈی کی تھی اس لئے تم پیچ دی جاؤ گی۔کہتی ہیں کہ میں نبی کریم صلی الم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور ساری صور تحال بتائی۔نبی کریم صلی الم نے لوگوں سے پوچھا کہ حُباب بن عمرو کے ترکے کا ذمہ دار کون ہے ؟ تو بتایا گیا کہ ان کے بھائی ابو الیسر ان کے ذمہ دار ہیں۔آنحضور صلی ﷺ نے انہیں بلایا اور فرمایا کہ اسے مت بیچنا۔یہ لونڈی ہے۔اسے مت بیچنا بلکہ اسے آزاد کر دو۔اور جب تمہیں پتہ لگے کہ میرے پاس کوئی غلام آیا ہے تو تم میرے پاس آجانا۔میں اس کے عوض میں تمہیں دوسر اغلام دے دوں گا۔50 چنانچہ ایسا ہی ہوا۔آنحضرت صلی علیم نے ان کو آزاد کر دیا اور اُن کو ایک غلام مہیا فرما دیا۔غلام کے ساتھ حسن سلوک کی بہترین مثال حضرت مرزا بشیر احمد صاحب سیرت خاتم النبیین میں ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ : عُبادہ بن ولید روایت کرتے ہیں کہ ہم ایک دفعہ آنحضرت صلی علم کے صحابی ابو الیسر کو ملے۔اس وقت ان کے ساتھ ایک غلام بھی تھا اور ہم نے دیکھا کہ ایک دھاری دار چادر اور ایک یمنی چادر ان کے بدن پر تھی اور اسی طرح ایک دھاری دار چادر اور ایک یمنی چادر ان کے غلام کے بدن پر تھی۔میں نے انہیں کہا کہ چا تم نے ایسا کیوں نہ کیا کہ اپنے غلام کی دھاری دار چادر خود لے لیتے اور اپنی چادر اسے دے دیتے یا اس کی یمنی چادر خود لے لیتے اور اپنی دھاری دار چادر اسے دے دیتے تا کہ تم دونوں کے بدن پر ایک ایک طرح کا جوڑا ہو جاتا۔حضرت ابو الیسر نے میرے سر پر ، روایت کرنے والے کہتے ہیں کہ میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لئے دعا کی اور پھر مجھے کہنے لگے کہ بھیجے میری ان آنکھوں نے دیکھا ہے اور میرے ان کانوں نے سنا ہے اور میرے اس دل نے اسے اپنے اندر جگہ دی ہے کہ رسول اللہ صلی علی کرم فرماتے تھے کہ اپنے غلاموں کو وہی کھانا کھلاؤ جو تم خود کھاتے ہو اور وہی لباس پہناؤ جو تم خود پہنتے ہو۔پس میں اس بات کو بہت زیادہ پسند کرتا ہوں کہ میں دنیا کے اموال میں سے اپنے غلام کو برابر کا حصہ دے دوں بہ نسبت اس کے کہ قیامت کے دن میرے ثواب میں کوئی کمی آوے۔تو یہ تھے وہ لوگ جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہو ا جو آنحضرت صلی لی ایم کے ارشاد کو اس باریکی سے دیکھتے 51