اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 302 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 302

302 صحاب بدر جلد 4 میں فوت ہوئے۔715 قبول اسلام شخص حضرت خُريم بن فاتك اپنے اسلام قبول کرنے کا واقعہ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ اونٹ گم گئے تھے تو میں اپنے اونٹوں کو ڈھونڈھنے نکلا، ان کے نشانات کا پیچھا کرتے کرتے مجھے رات ہو گئی۔چنانچہ میں نے انہیں آبرقُ العَزّاف یہ بنو اسد بن خزیمہ کے پانی پینے کی مشہور جگہ کا نام ہے جو مدینہ سے بصرہ کے راستے پر ہے، وہاں جا کر پا لیا تو میں نے انہیں وہیں باندھ دیا اور ان میں سے ایک اونٹ کی ران کے ساتھ ٹیک لگا کر لیٹ گیا۔رات گزارنے کے لیے وہیں رہ گئے اور کہتے ہیں کہ یہ نبی کریم صلی الی یکم کی ہجرت کے ابتدائی زمانے کی بات ہے۔میں نے کہا کہ میں اس وادی کے سردار کی پناہ مانگتا ہوں۔اونچی آواز میں کہا۔یہ اس زمانے میں ان کا رواج تھا۔میں اس وادی کے عظیم کی پناہ مانگتا ہوں۔حضرت خریم کہتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ اسی طرح کہا کرتے تھے۔زمانہ جاہلیت میں جب کوئی شخص کسی ویران وادی میں رات گزارنے کی غرض سے داخل ہو تا تو اس کے اہل اور بیوقوفوں کے شر سے بچنے کے لیے یہ الفاظ کہا کرتا تھا۔بہر حال کہتے ہیں کہ جب میں یہ کہہ رہا تھا تو اچانک ایک پکارنے والے نے مجھے آواز دی اور یہ اشعار پڑھے کہ تیر ابھلا ہو تو اللہ ذوالجلال کی پناہ مانگ جو حرام اور حلال کا نازل کرنے والا ہے۔اللہ کی توحید کا اقرار کر پھر تجھے جنات کی آزمائشوں کی کوئی پروا نہیں ہو گی۔جب تو اللہ کو یاد کرے گا تو کئی میلوں اور زمینوں اور پہاڑوں کی پنہائیوں میں جنات کا مکر ناکام ہو جائے گا سوائے تقویٰ والے کے اور نیک اعمال کے یعنی نیکیاں جاری رہیں گی۔کوئی برائی نہیں آئے گی۔حضرت خریم کہتے ہیں کہ میں نے جوابا کہا کہ اے پکارنے والے ! تو جو کچھ کہہ رہا ہے کیا تیرے نزدیک وہ ہدایت کی بات ہے یا تو مجھے گمراہ کر رہا ہے۔یہ زمانہ جاہلیت کی باتیں تو اور تھیں۔اور یہ تم توحید کی عجیب باتیں کر رہے ہو۔اس نے کہا یہ اللہ کے رسول ہیں۔بھلائیوں والے ہیں۔لیس اور خمینیجات لے کر آئے ہیں اور اس کے بعد مُفضّلات سورتیں بھی لائے ہیں جنہوں نے ہمیں یہ ساری باتیں بتائی ہیں اور جو بہت ساری چیزوں کو حرام قرار دینے والے ہیں اور بہت ساری چیزوں کو حلال قرار دینے والے ہیں۔وہ نماز اور روزے کا حکم دیتے ہیں اور لوگوں کو ان برائیوں سے روکتے ہیں جو گذشتہ دنوں کی برائیاں لوگوں میں موجود تھیں۔یہ ان کو جواب ملا کہ اس طرح ہمیں توحید کا اعلان پتا لگا ہے اس لیے ہم کہتے ہیں۔حضرت خریم کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ اللہ تجھ پر رحمت کرے تم کون ہو ؟ اس نے کہا میں ملک بن مالك ہوں۔رسول اللہ صلی علیم نے مجھے اہل نجد کے جن یعنی سرداروں پر مقرر کر کے بھیجا ہے۔یہ ان کی آپس میں بات چیت ہو رہی ہے۔حضرت خُریم کہتے ہیں کہ میں نے کہا اگر میرے لیے کوئی ایسا شخص ہو تاجو میرے اونٹوں کی کفالت کرتا، تو میں ضرور اس رسول کے پاس جاتا، یہاں تک کہ اس پر ایمان