اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 303 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 303

303 صحاب بدر جلد 4 لے آتا۔ان کو توحید کی باتیں اچھی لگیں ، ملك بن مالک نے کہا کہ میں ان کی، تمہارے اونٹوں کی ذمہ داری لیتا ہوں یہاں تک کہ میں انہیں تیرے اہل تک ان شاء اللہ صحیح سلامت پہنچا دوں گا۔کہتے ہیں کہ میں نے ان میں سے ایک اونٹ تیار کیا اور اس پر سوار ہو کر مدینہ آگیا۔باقی اونٹ ان کے سپر د کر دیے۔میں ایسے وقت میں پہنچا کہ جب لوگ نماز جمعہ میں مصروف تھے۔جمعہ کا وقت تھا تو میں نے سوچا یہ لوگ نماز پڑھ لیں پھر میں اندر جاؤں گا کیونکہ میں تھکا ہوا تھا لہذا میں نے اپنی سواری کو بٹھا دیا۔جب حضرت ابو ذر باہر نکلے تو انہوں نے مجھے کہا کہ رسول اللہ صلی الی یکم فرمارہے ہیں کہ اندر آجاؤ۔پس میں اندر آ گیا۔جب آپ نے مجھے دیکھا تو فرمایا اس بوڑھے شخص کا کیا بنا جس نے تمہیں ضمانت دی تھی کہ تمہارے اونٹ صحیح سلامت تمہارے گھر پہنچا دے گا۔اس نے تمہارے اونٹ تمہارے گھر صحیح سلامت پہنچا دیے ہیں ؟ یہ سارا نظارہ جو تھا اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی ال یکم کو بھی اس کی اطلاع دے دی۔حضرت خریم کہتے ہیں کہ یہ سن کر میں نے کہا اللہ اس پر رحم کرے۔رسول اللہ صلی علیکم نے فرمایا کہ ہاں اللہ اس پر رحم کرے۔اس پر حضرت خریم نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس طرح بڑے اچھے انداز میں وہ اسلام لے آئے۔716 انہوں نے اپنا اسلام لانے کا یہ واقعہ بیان کیا۔لطیف مزاج اور نفاست پسند حضرت خریم بن فاتک نہایت لطیف مزاج اور نفاست پسند تھے۔لباس اور وضع قطع میں خوبصورتی اور نفاست کا بہت لحاظ رکھتے تھے۔7 717 اسلام لانے سے پہلے نیچا ازار پہنتے تھے، لمباپا جامہ یا جو نچلا لباس ہے وہ لمبا کر کے پہنتے تھے۔لمبے بال رکھا کرتے تھے۔چنانچہ مستدرک حاکم میں اس کے متعلق ایک حدیث میں بیان ہوا ہے کہ حضرت خریم بن فاتک سے مروی ہے کہ ایک دفعہ نبی کریم صلی ایام تشریف لائے اور فرمایا اسے خریم اگر تم میں دو باتیں نہ ہو تیں تو تم بہت اچھے شخص ہوتے۔انہوں نے کہا کہ میرے ماں باپ آپ صلی کم پر قربان ہوں وہ دو باتیں کون سی ہیں یار سول اللہ۔آپ نے فرما یا تمہارا اپنے بال بڑھانا اور اپنا ازار لٹکانا یعنی ایسالمباپا جامہ پہنا جو فخر کے طور پر پہنا جاتا ہے۔پس حضرت خریم گئے اور اپنے بال کٹوا دیے اور اپنا ازار چھوٹا کر دیا۔718 ایک یہ روایت ہے اور ایک روایت تاریخ الکبیر میں یہ بھی ہے کہ حضرت ابن حنظلیہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی الی یکم نے فرمایا کہ خُریم اسدی کتنا ہی اچھا شخص ہو تا اگر اپنے بال مونڈھوں تک نہ بڑھاتا۔کندھے تک نہ لاتا اور اپنا ازار نہ لٹکا تا فخر کے طور پر۔اپنا پاجامہ جو نچلا لباس ہے یا جو بھی نیچے لباس پہنا ہوتا ہے وہ زیادہ لمبا نہ ہو۔حضرت تحریم کو یہ بات پہنچی تو انہوں نے اپنا چھوٹا استرالیا اور اپنے بال کانوں تک کاٹ دیے۔الله سة