اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 293
تاب بدر جلد 4 293 لگا کہ یہ پہلا دغا ہے۔بخدا میں تمہارے ساتھ نہیں جاؤں گا۔میرے لیے ان لوگوں میں راحت بخش نمونہ ہے جو شہید ہوئے۔میں تو یہیں ہوں۔شہید کرنا ہے تو کرو۔انہوں نے اسے کھینچا اور کشمکش کی کہ وہ کسی طرح ان کے ساتھ جائیں مگر وہ نہ مانے۔آخر انہوں نے ان کو مار ڈالا اور حبیب اور ابن دینہ کو پکڑ کر لے گئے اور جا کر سکتے میں ان کو بیچ دیا۔یہ جنگ بدر کے بعد کا واقعہ ہے اور خُبیب کو بنو حارث بن عامر بن نوفل بن عبد مناف نے خرید لیا اور حبیب ہی تھے جنہوں نے حارث بن عامر کو بدر کے دن قتل کیا تھا۔حبیب ان کے پاس قید رہے۔واقعہ شہادت ابن شہاب کہتے تھے کہ عبید اللہ بن عیاض نے مجھے بتایا کہ حارث کی بیٹی نے ان سے ذکر کیا کہ جب انہوں نے اتفاق کر لیا کہ انہیں مار ڈالیں گے۔جنہوں نے ان کو خرید کر قیدی بنایا تھا وہ اس بات پر متفق ہو گئے کہ اب ان کو قتل کر دینا ہے، شہید کر دینا ہے تو محبیب نے اسی قید کے دوران میں ایک دن ان سے استر اما نگا کہ اسے استعمال کریں۔یہ بڑا مشہور واقعہ بیان کیا جاتا ہے۔چنانچہ اس نے استرا دے دیا۔حارث کی بیٹی کہتی ہے کہ اس وقت میری بے خبری کی حالت میں میرا ایک بچہ حبیب کے پاس آیا اور انہوں نے اس کو لے لیا۔اس نے کہا کہ میں نے حبیب کو دیکھا کہ وہ بچے کو اپنی ران پر بٹھائے ہوئے ہے اور استرا ان کے ہاتھ میں ہے۔میں یہ دیکھ کر اتنا گھبر ائی کہ حبیب نے گھبراہٹ کو میرے چہرے سے پہچان لیا اور بولے تم ڈرتی ہو کہ میں اسے مار ڈالوں گا۔میں تو ایسا نہیں ہوں کہ یہ کروں۔حارث کی بیٹی کہا کرتی تھی کہ بخدا میں نے کبھی ایسا قیدی نہیں دیکھا جو جیب سے بہتر ہو۔پھر کہنے لگی کہ اللہ کی قسم ! میں نے ایک دن ان کو دیکھا کہ خوشہ انگور ان کے ہاتھ میں تھے، انگوروں کا ایک گچھا ان کے ہاتھ میں تھا اور وہ اس سے انگور کھا رہے تھے اور وہ زنجیر میں جکڑے ہوئے تھے اور ان دنوں سکتے میں کوئی پھل بھی نہ تھا۔کہتی تھیں کہ یہ اللہ کی طرف سے رزق تھا جو اس نے حبیب کو دیا۔جب ان لوگوں کو حرم سے باہر لے گئے کہ ایسی جگہ قتل کریں جو حرم نہیں ہے تو ٹھیٹ نے ان سے کہا مجھے اجازت دو کہ میں دور کعتیں نماز پڑھ لوں اور انہوں نے ان کو اجازت دے دی تو انہوں نے دور کعتیں پڑھیں اور کہنے لگے مجھے یہ گمان نہ ہو تا کہ تم یہ خیال کرو گے کہ میں اس وقت جس حالت میں نماز میں ہوں گھبراہٹ کا نتیجہ ہے، مجھے کوئی مرنے کی گھبراہٹ ہے تو میں ضرور یہ نماز بھی پڑھتا۔پھر انہوں نے اپنے خدا سے دعا کرتے ہوئے یہ کہا کہ اے اللہ ! ان کو ایک ایک کر کے ہلاک کر۔جب ان کو شہید کرنے لگے اس وقت انہوں نے یہ بھی دعا کی کہ اے اللہ ! ان کو ایک ایک کر کے ہلاک کر۔پھر حضرت حبیب نے یہ شعر بھی پڑھے کہ وَلَسْتُ أَبَالِي حِيْنَ أَقْتَلُ مُسْلِمًا عَلَى آتِي شِقٍ كَانَ لِلَّهِ مَصْرَ عَى وَذَالِكَ فِي ذَاتِ الْإِلَهِ وَإِنْ يَشَأُ يُبَارِكْ عَلَى أَوْصَالِ شِلُو مُمَزَّعِ