اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 294 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 294

ب بدر جلد 4 294 کہ جبکہ میں مسلمان ہونے کی حالت میں مارا جارہا ہوں مجھے پروا نہیں کہ کس کروٹ اللہ کی خاطر گروں گا اور میرا یہ گرنا اللہ کی ذات کے لیے ہے اور اگر وہ چاہے تو ٹکڑے کیے ہوئے جسم کے جوڑوں کو برکت دے سکتا ہے۔شہادت کے وقت دعا اور نفل پڑھنا 696 علامہ حجر عسقلانی جو بخاری کے شارح ہیں وہ غزوہ کر جمیع کے تحت ایک حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ حضرت حبیب نے شہادت کے وقت یہ دعا مانگی کہ اللهُم أَحْصِهِمْ عَدَدًا۔کہ اے اللہ ! ان دشمنوں کی گنتی کو شمار کر رکھ۔یہ جو میرے دشمن ہیں ان کو گنتی کرلے تا کہ ان سے بدلہ لے سکے اور ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ وَاقْتُلْهُمْ بَدَدًا وَلَا تُبْقِ مِنْهُمْ أَحَدًا اور انہیں چن چن کر قتل کر اور ان میں سے کسی ایک کو بھی باقی نہ چھوڑ۔6 بہر حال انہوں نے نفل پڑھے اور آخر حارث کے بیٹے عقبہ نے حضرت حبیب بن عدی کو وہاں جا کے پھر ٹھیٹ کو قتل کر دیا، شہید کر دیا اور ایک اور روایت بخاری میں ہے اس کے مطابق حضرت خُبیب کو ابو سَروَعَہ نے قتل کیا تھا اور یہ حبیب ہی تھے جنہوں نے ہر ایسے مسلمان کے لیے دور کعت پڑھنے کی سنت قائم کی جو اس طرح باندھ کر مارا جائے۔عاصم بن ثابت کی لاش کی خدائی حفاظت اللہ نے عاصم بن ثابت کی دعا جس دن وہ شہید ہوئے وہ قبول فرمائی اور نبی صلی علیم نے اپنے صحابہ کو بتایا جو پہلے ذکر ہو چکا ہے عاصم بن ثابت نے دعا کی تھی کہ اللہ تعالیٰ نبی کریم صلی الی تم کو خبر کر دے جو اس قافلے کے لیڈر تھے جن میں حضرت حبیب بھی شامل تھے۔نبی کریم صلی الی یکم نے اپنے صحابہ کو بتایا کہ جو ان لوگوں کے ساتھ واقعہ ہوا ہے اور جو انہیں تکلیف پہنچی تھی اور جب کفار قریش کو بعض لوگوں نے بتایا کہ عاصم قتل کیے گئے ہیں تو انہوں نے عاصم کی طرف کچھ آدمیوں کو بھیجا کہ ان کی لاش میں سے ایسا حصہ لائیں کہ جس سے وہ پہچانے جائیں۔عاصم نے بدر کے دن ان کے بڑے بڑے لوگوں میں سے ایک شخص کو قتل کیا تھا تو عاصم کی لاش پر بھڑوں کا ایک جھنڈ بھیجا گیا۔اللہ تعالیٰ نے ایسا انتظام کیا جو سائبان کی طرح اس کے اوپر چھایا رہا اور ان کی لاش کو کفار کے بھیجے ہوئے آدمی کچھ نقصان نہ پہنچا سکے اور ان سے بچا لیا، وہ کوئی ٹکڑہ نہ کاٹ سکے۔697 ایسا حضرت خبیب کی دعا اور مخالفین کا انجام حضرت حبیب کو جب شہید کیا جانے لگا تھا تو اس وقت انہوں نے یہ بھی دعا مانگی کہ اے اللہ ! میرے پاس کوئی ذریعہ نہیں کہ تیرے رسول صلی علی یکم تیک سلام پہنچا سکوں پس تو خود میری طرف سے آپ صلی نیلم کو سلام پہنچا دے۔جب حضرت حبیب قتل کیے جانے کے لیے تختہ پر چڑھے تو پھر دعا