اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 292 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 292

ناب بدر جلد 4 292 صحابہ کو فروخت کر دیا گیا۔حارث بن عامر کے بیٹوں نے حضرت حبیب کو خریدا تا کہ وہ اپنے باپ حارث کے قتل کا بدلہ لے سکیں جسے بدر کے روز جبیب نے قتل کیا تھا۔ابن اسحاق کے مطابق مجیر بن ابواهاب تمیمی نے حضرت حبیب کو خریدا تھا جو حارث کی اولاد کا حلیف تھا۔اس سے حارث کے بیٹے عقبہ نے حضرت حبیب کو خریدا تھا تا کہ اپنے باپ کے قتل کا بدلہ لے سکے۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ عقبہ بن حارث نے حضرت خبیب کو بنو نجار سے خریدا تھا۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابواھاب، عکرمہ بن ابو جہل، اخنس بن شریق، عبیدہ بن حکیم، امیہ بن ابو عتبه حضرمی کے بیٹوں نے اور صفوان بن امیہ نے مل کر حضرت حبیب کو خریدا تھا۔یہ سب وہ افراد تھے جن کے آباء غزوہ بدر میں " تھے۔ان سب نے حضرت حبیب و خرید کر عقبہ بن حارث کو دے دیا تھا جس نے انہیں اپنے گھر میں قید کر لیا تھا۔695 بخاری میں واقعہ کر جمیع کی بابت کچھ تفصیلات یوں بیان ہوئی ہیں کہ حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی علیم نے دس آدمیوں کا ایک دستہ حالات معلوم کرنے کے لیے بھیجا اور عاصم بن ثابت انصاری کو جو عاصم بن عمر بن خطاب کے نانا تھے اس کا امیر مقرر کیا۔یہ لوگ چلے گئے۔جب هداه مقام پر پہنچے جو عُسفان اور ملنے کے درمیان ہے تو ان کے متعلق کسی نے بنو لحیان کو خبر کر دی جو ھذیل قبیلے کا ایک حصہ ہے۔یہ خبر سن کر بنوتھیان کے تقریباً دو سو آدمی جو سب کے سب تیر انداز تھے نکل کھڑے ہوئے اور ان کے قدموں کے نشانوں پر ان کے پیچھے پیچھے گئے۔یہاں تک کہ انہوں نے وہ جگہ دیکھ لی، وہاں تک پہنچ گئے جہاں انہوں نے کھجوریں کھائی تھیں۔جہاں یہ دس آدمی رکے تھے اور کھجوریں کھائی تھیں جو مدینے سے بطور زادِ راہ کے لے کے آئے تھے ، سفر کے کھانے پینے کا سامان لے کے آئے تھے، تو وہاں بیٹھ کر انہوں نے کھجوریں کھائی تھیں۔وہاں کھجوروں کی گٹھلیاں نچھینکیں تو انہیں دیکھ کر انہوں نے کہا کہ یہ یثرب کی کھجوریں ہیں، مدینے کی کھجور میں ہیں اور پھر وہ قدموں کے نشان پر ان کے پیچھے پیچھے چلے گئے۔جب عاصم اور ان کے ساتھیوں نے ان کو آتے دیکھا تو انہوں نے ایک ٹیلے پر پناہ لے لی۔ان لوگوں نے ان کو گھیر لیا اور ان سے کہنے لگے کہ نیچے اتر آؤ اور تم اپنے آپ کو ہمارے سپر د کر دو اور ہماری طرف سے تمہارے لیے یہ عہد ہے کہ ہم تم میں سے کسی کو بھی قتل نہیں کریں گے۔عاصم بن ثابت جو اس دستے کے امیر تھے بولے کہ یقینا اگر میں اپنے آپ کو سپر د کروں گا تو آج کا فر کی امان پر ٹیلے سے اترنا ہو گا اور میں کافر کی امان پر ٹیلے سے نہیں اتروں گا۔پھر انہوں نے دعا کی کہ اے اللہ ! اپنے نبی کو ہمارے متعلق خبر کر دے۔ان لوگوں نے اس پر تیر چلائے اور عاصم کو سات آدمیوں سمیت مار ڈالا۔یہ دیکھ کر تین آدمی عہد و پیمان پر اعتماد کرتے ہوئے، ان کی باتوں پر اعتماد کرتے ہوئے ان کے پاس نیچے آگئے۔ان میں حبیب انصاری اور ابن دفتہ اور ایک اور شخص تھے۔جب یہ نیچے آگئے تو کافروں نے ان کو قابو کر لیا۔انہوں نے اپنی کمانوں کی تندیاں کھولیں اور ان کی مشکیں کسیں، اس سے ان کو باندھ دیا۔تیسرا شخص کہنے