اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 73
ناب بدر جلد 4 73 سواری پر مجھے یعنی حضرت انس کو پیچھے بٹھا کر لے گئے۔حضرت انس کہتے ہیں میں اس وقت لڑکا تھا اور بلوغت کے قریب پہنچ چکا تھا۔میں رسول اللہ صلی علی یم کی خدمت کیا کرتا تھا۔جب آپ اترتے میں اکثر آپ کو یہ دعاما نگتے سنا کر تا تھا کہ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُبِكَ مِنَ الْهَةِ وَالْحَزَنِ وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَضَلَعِ الدِّيْنِ وَغَلَبَةِ الرجال کہ اے میرے اللہ ! میں تیری پناہ لیتا ہوں غم واندوہ سے درماندگی اور سستی سے اور بخل اور بزدلی سے اور قرض داری کے بوجھ سے اور لوگوں کی سختی سے۔186 ایک دوسری روایت میں اس طرح بھی آیا ہے۔یہ حضرت انس کی روایت ہے۔پہلی بھی بخاری کی تھی اور یہ بھی بخاری کی ہی ہے۔حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علی کی مدینہ میں آئے۔آپ کا کوئی خادم نہ تھا۔حضرت ابوطلحہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے لے کر رسول اللہ صلی ال نیم کے پاس گئے اور عرض کیا یارسول اللہ ! انس سمجھ دار لڑکا ہے۔یہ آپ کی خدمت کرے گا۔حضرت انس کہتے تھے چنانچہ میں نے سفر میں بھی آپ کی خدمت کی اور حضر میں بھی۔جو کام بھی میں کرتا آپ مجھے کبھی نہ فرماتے تو نے یہ کام اس طرح کیوں کیا اور جو کام میں نے نہ کیا ہوتا اس کی نسبت آپ مجھے بھی نہ فرماتے کہ تم نے اس کو اس طرح کیوں نہیں کیا یعنی کبھی کوئی روک ٹوک نہیں کی۔87 187 پہلے عورت کی خبر لو حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی علیم کے ساتھ تھے جب آپ عسفان (عسفان مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے ) وہاں سے لوٹے اور رسول اللہ صلی علی کرم اس وقت اپنی اونٹنی پر سوار تھے اور آپ نے حضرت صفیہ بنت حیی کو پیچھے بٹھایا ہوا تھا۔آپ کی اونٹنی نے ٹھو کر کھائی اور دونوں گر پڑے۔حضرت ابو طلحہ یہ دیکھ کر فوراً اونٹ سے گودے اور بولے یار سول اللہ ! میں آپ پر قربان۔آپ نے فرمایا پہلے عورت کی خبر لو۔حضرت ابو طلحہ نے اپنے منہ پر کپڑا ڈال لیا اور حضرت صفیہ کے پاس آئے اور وہ کپڑا ان پر ڈالا یعنی ان کو پردے کا اتنا لحاظ تھا اور ان دونوں کی سواری درست کی جس پر وہ سوار ہو گئے اور ہم نے رسول اللہ صلی علیکم کے گرد حلقہ بنالیا۔جب ہم مدینے کی بلندی پر پہنچے تو آپ صلی سلیم نے فرمایا کہ آئِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُوْنَ لِرَبَّنَا حَامِدُونَ ہم لوٹ کر آنے والے ہیں۔ہم اپنے رب کے حضور توبہ کرنے والے ہیں۔اپنے رب کی عبادت کرنے والے اور اپنے رب کی ستائش کرنے والے ہیں۔آپ اس وقت تک کہ مدینے میں داخل ہوئے یہی کلمات فرماتے رہے۔188 حضرت مصلح موعود اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : ایک دفعہ جبکہ آپ غزوہ خیبر سے واپس تشریف لا رہے تھے اور آپ کی بیوی حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا بھی آپ کے ساتھ تھیں تو راستے میں اونٹ برک گیا اور آپ اور حضرت صفیہ دونوں گر