اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 74
تاب بدر جلد 4 74 گئے۔حضرت ابو طلحہ انصاری کا اونٹ آپ کے پیچھے ہی تھا۔وہ فوراً اپنے اونٹ سے کود کر آپ کی طرف گئے اور کہنے لگے یار سول اللہ ! میری جان آپ پر قربان آپ کو کوئی چوٹ تو نہیں آئی ؟ جب ابو طلحہ آپ کے پاس پہنچے تو رسول کریم صلی علیم نے فرمایا ابو طلحہ ! پہلے عورت کی طرف، پہلے عورت کی طرف۔" دود فعہ فرمایا " وہ تو رسول کریم ملی ای ایم کے عاشق تھے۔" حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت طلحہ تو رسول کریم صلی علیم کے عاشق تھے ” جب آپ کی جان کا سوال ہو تو اس وقت انہیں کوئی اور کیسے نظر آسکتا تھا مگر رسول کریم صلی لی ہم نے فرمایا جاؤ اور پہلے عورت کو اٹھاؤ۔"189 یہ واقعہ آپ نے اس وقت بیان فرمایا جب آپ عورت کے حقوق کے بارے میں بیان فرمارہے تھے۔غزوہ خیبر حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیم نے خیبر پر حملہ کیا اور ہم نے اس کے قریب جا کر صبح کی نماز پڑھی جبکہ ابھی اندھیرا ہی تھا۔پھر نبی کریم صلی للی کم سوار ہوئے اور حضرت ابو طلحہ بھی سوار ہوئے اور میں حضرت ابو طلحہ کے ساتھ پیچھے سوار تھا۔نبی صلی علیم نے خیبر کی گلی میں گھوڑا دوڑایا اور میرا گھٹنانی ملی یک کم کی ران کے ساتھ چھو رہا تھا۔دونوں اتنے قریب قریب تھے اور پھر آپ نے گرمی کی وجہ سے یا ویسے آرام کی وجہ سے اپنی ران سے اپناتہ بند ہٹایا یعنی ٹانگ سے، گھٹنے سے ذرا اوپر کیا تو کہتے ہیں یہاں تک کہ میں نے نبی صلی للی کم کی ان کی سفیدی دیکھی۔ران سے مراد یہاں گھٹنے سے اوپر کا حصہ ہے۔جب آپ گاؤں میں داخل ہوئے اور فرمایا: اللهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ المُنْذَرِينَ اللہ ہی سب سے بڑا ہے۔خیبر ویران ہو گیا ہم جب کسی قوم کے آنگن میں ڈیرہ ڈالتے ہیں تو پھر ان لوگوں کی صبح بری ہوتی ہے جن کو قبل از وقت عذاب الہی سے ڈرایا گیا ہو۔یہ آپ نے تین بار فرمایا۔حضرت انس کہتے تھے کہ لوگ اپنے کاموں کے لیے باہر نکلے تو انہوں نے کہا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور عبد العزیز کہتے تھے کہ ہمارے بعض ساتھیوں نے محمد کے ساتھ خمیس کا لفظ بھی کہا تھا یعنی فوج۔حضرت صفیہ کا ام المؤمنین بننا حضرت انس کہتے تھے کہ ہم نے اسے لڑ کر فتح کیا اور قیدیوں کو اکٹھا کیا گیا تو حضرت دحیہ کلبھی آئے اور کہا اے اللہ کے نبی ! مجھے ان قیدیوں میں سے ایک لونڈی دیجیے۔آپ نے فرمایا جاؤ اور ایک لڑکی لے لو۔انہوں نے میتی کی بیٹی صفیہ لی۔اس پر ایک شخص نبی صلی ایلام کے پاس آیا اور کہا اے اللہ کے نبی! آپ نے دحیہ کو قریظہ اور نفیر کی سردار صفیہ بنت حیی دی ہے۔وہ تو صرف آپ ہی کے لائق ہے۔آپ نے فرمایا اسے مع صفیہ بلا لاؤ۔وہ صفیہ کو لے آئے اور حضرت دحیہ بھی ساتھ تھے۔آپ نے حضرت دحیہ کو فرمایا کہ ان قیدیوں میں سے کوئی اور تم لے لو۔حضرت انس کہتے تھے کہ نبی صلی علیم نے حضرت صفیہ کو آزاد کر دیا اور پھر ان سے شادی کی۔اس پر حضرت ثابت نے حضرت انس سے پوچھا کہ ابو حمزہ ! آنحضرت صلی یکم نے