اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 20
ب بدر جلد 4 الله سة 20 پانی نہ ٹپک پڑے حضرت ابو ایوب نے دوڑ کر اپنا لحاف اس پانی پر ڈال کر پانی کی رطوبت کو خشک کیا۔صبح کے وقت پھر وہ رسول اللہ صلی عوام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارے حالات عرض کیے۔جس پر رسول کریم ملی ایم نے اوپر جانا منظور فرما لیا۔حضرت ابو ایوب روزانہ کھانا تیار کرتے اور آپ کے پاس بھجواتے۔پھر جو آپ کا بچا ہوا کھانا آتا وہ سارا گھر کھاتا۔کچھ دنوں کے بعد اصرار کے ساتھ باقی انصار نے بھی مہمان نوازی میں اپنا حصہ طلب کیا اور جب تک رسول اللہ صلی علیکم کے اپنے گھر کا انتظام نہ ہو گیا باری باری مدینہ کے مسلمان آپ کے گھر میں کھانا پہنچاتے رہے۔“ یہ حضرت مصلح موعود کا دیباچے سے جو بیان تھا وہ ختم ہو ا۔آگے یہ حدیث کی روایت ہے۔5966 ا کھانے کا تبرک حضرت ابو ایوب روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ یکم ان کے ہاں اترے۔نبی صلی ا ہم مچلی منزل میں اور حضرت ابوایوب اوپر والی منزل میں تھے۔راوی کہتے ہیں کہ ایک رات حضرت ابوایوب بیدار ہوئے اور کہا ہم رسول اللہ صلی علیکم کے سر کے اوپر چلتے ہیں پس وہ ایک طرف ہٹ گئے اور ایک کونے میں رات گزاری۔پھر انہوں نے نبی صلی للی کم کی خدمت میں عرض کیا تو نبی صلی علی کریم نے فرمایا: نچلے حصہ میں زیادہ سہولت ہے۔انہوں نے کہا میں اس چھت پر نہیں رہ سکتا جس کے نیچے آپ ہوں۔نبی صلی علیم اوپر منتقل ہو گئے اور حضرت ابو ایوب نیچے۔وہ نبی صلی ایم کے لیے کھانا بناتے تھے اور جب وہ کھا نار سول اللہ صلی ال نیم کی طرف سے ان کے پاس واپس لایا جاتا تو وہ لانے والے سے پوچھتے کہ کس جگہ آپ کی انگلیاں لگی تھیں۔پھر وہ آپ کی انگلیوں کی جگہ کا تتبع کرتے یعنی وہیں سے کھاتے جہاں آنحضرت صلی یا لیلی نے کھایا تھا۔انہوں نے ایک دفعہ آر کے لیے کھانا تیار کیا جس میں لہسن تھا۔جب وہ ان کی طرف واپس لایا گیا تو انہوں نے نبی صلی علیکم انگلیوں کی جگہ کے متعلق پوچھا اور ان سے کہا کہ کیا آپ نے نہیں کھایا؟ جب ان کو بتایا گیا کہ آپ علی ایم نے آج کھانا نہیں کھایا تو گھبر اگئے اور آپ صلی علی نام کی طرف اوپر گئے اور پوچھا کہ کیا یہ لہسن حرام ہے؟ نبی صلی اللہ ہم نے فرمایا نہیں لیکن میں اسے ناپسند کرتا ہوں۔اس پر ابو ایوب انصاری نے کہا جس کو آپ ناپسند کرتے ہیں میں اس کو نا پسند کرتا ہوں یا انہوں نے کہا کہ جس کو آپ نے ناپسند کیا میں نے بھی ناپسند کیا۔راوی کہتے ہیں کہ نبی صلی لنی کیم کے پاس فرشتے آتے تھے۔یہ روایت مسلم کی ہے۔اسی طرح لکھی ہے یعنی وحی ہوتی تھی اور فرشتے آتے تھے اور اس وجہ سے آنحضرت صلی یکم بو والی چیز پسند نہیں کرتے تھے لیکن یہ حرام نہیں ہے۔کھانے میں لہسن پیاز کی وجہ سے نہ کھایا مسلم میں یہ روایت یوں بھی درج ہے۔حضرت ابوایوب انصاری سے روایت ہے۔وہ کہتے ہیں کہ